’شام میں ہلاکتوں کی تعداد ساٹھ ہزار تک پہنچ گئی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 15:27 GMT 20:27 PST

ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں خـواتین اور بچے بھی شامل ہیں

شام میں حزبِ مخالف کے کارکنوں کے مطابق دارالحکومت دمشق میں ایک پیٹرول پمپ پر ہونے والے فضائی حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی تحریک میں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دمشق کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بدھ کو انہوں نے ضلع ملاح میں واقع پیٹرول پمپ پر حملے کے بعد وہاں جھلسی ہوئی لاشیں دیکھی ہیں۔

حقوق انسانی کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فضائی حملے میں ستر ہلاکتیں ہوئیں ہیں تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ایک کارکن نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ شامی طیاروں نے پیٹرول پمپ پر اس وقت حملہ کیا جب وہاں پیٹرول کی کھیپ پہنچی تھی۔

ایک دوسرے کارکن نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ پیٹرول پمپ کو ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

فضائی حملے کے بعد پیٹرول پمپ پر زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی دوسری گاڑیاں اس کی زد میں آ گئیں۔

دمشق میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق اس علاقے کا شمار حزبِ اختلاف کے مضبوط گڑھ میں نہیں ہوتا۔

نامہ نگار کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والے افراد میں خـواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

شام میں جاری لڑائی کے باعث ملک میں پیٹرول کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے گاڑی مالکان کو پیٹرول بھروانے کے لیے گھنٹوں پیٹرول پمپوں پر انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ہیومن رائٹس کونسل کے مطابق شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ سال دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی تحریک میں اب تک ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی سربراہ نوی پِلے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ پانچ ماہ کی جامع تحقیق کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس میں سات مختلف ذرائع کی مدد سے ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں حکومت مخالف تحریک کے شروع ہونے کے بعد گذشتہ سال مارچ تک ہلاکتوں کی تعداد انسٹھ ہزار چھ سو اڑتالیس تک پہنچ گئی تھی اور اس کے بعد تشدد میں کمی نہیں ہوئی ہے تو اس لیے ہلاکتیں اب ساٹھ ہزار سے زائد ہونی چاہیے۔‘

شام میں پرتشدد واقعات میں ایک ایسے وقت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب شام کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے ایلچی اخضر براہیمی نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام کے مسئلے کا بات چیت کے ذریعے پرامن حل نہ نکالا گیا تو شام میں شدید تباہی ہو گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔