شام: اہم ہوائی اڈّوں کے قریب شدید لڑائی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 13:01 GMT 18:01 PST

شام میں باغی حکومت کی فضائی برتری کو کمزور کرنے کے لیے متعدد بار فضائی اڈوں پر حملے کر چکے ہیں

شام سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی میں واقع بعض ہوائی اڈوں کے نزدیک حکومتی سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

باغی ذرائع اور سرکاری میڈیا کے مطابق باغیوں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں تفتناز کے اڈے کو نشانہ بنایا تاہم شامی سکیورٹی فورسز نے باغیوں کے حملے کو پسپا کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق حلب کے ہوائی اڈے پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں اور متعدد حملوں کے بعد منگل کو اس ہوائی اڈے کو بند کر دیا گیا تھا۔

شام میں ہوائی اڈوں پر حملوں کی اطلاعات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایک دن پہلے ہی جمعرات کو اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شام میں مارچ دو ہزار گیارہ سے جاری تنازعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔

تفتناز ہوائی اڈے پر حملہ بدھ کو اس وقت شروع کیا گیا تھا جب باغی ہوائی اڈے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے وہاں دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق باغیوں نے فضائی اڈے پر کھڑے ایک جنگی جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا۔

اس کے بعد جمعرات کو باغیوں کی جانب سے مزید حملے کیے گئے لیکن اطلاعات کے مطابق شامی سکیورٹی فورسز نے باغیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

باغی گذشتہ کئی ماہ سے فضائی اڈے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حکومتی سکیورٹی فورسز کو حاصل فضائی برتری کو کمزور کیا جا سکے تاہم انھیں ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا نیوز کے مطابق حکومتی سکیورٹی فورسز نے باغیوں کی جانب سے ہوائی اڈے پر حملہ کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور اس کارروائی میں باغیوں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

ادھر دارالحکومت دمشق کے مضافات میں بھی شامی سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بدھ کو اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی سربراہ نوی پِلے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ پانچ ماہ کی جامع تحقیق کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس میں سات مختلف ذرائع کی مدد سے ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں حکومت مخالف تحریک کے شروع ہونے کے بعد گذشتہ سال مارچ تک ہلاکتوں کی تعداد انسٹھ ہزار چھ سو اڑتالیس تک پہنچ گئی تھی اور اس کے بعد تشدد میں کمی نہیں ہوئی ہے تو اس لیے ہلاکتیں اب ساٹھ ہزار سے زائد ہونی چاہیئیں۔‘

اس سے پہلے شام میں حزبِ اختلاف کے گروپوں کے اندازوں کے مطابق چالیس ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔