قدیم ترین سوئس بینک جرمانے کے بعد بند

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 07:16 GMT 12:16 PST

ویگلن بینک سوئٹزرلینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے سینٹ گیلن میں قائم ہے اور اسے سترہ سو اکتالیس میں قائم کیا گیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ کا قدیم ترین بینک ’ویگلن‘ نیویارک کی ایک عدالت میں امریکی شہریوں کو ٹیکس بچانے میں معاونت دینے کے اعتراف کے بعد بند کر دیا جائے گا۔

ویگلن بینک نے جسے سترہ سو اکتالیس میں قائم کیا گیا تھا، اس جرم کے اعتراف کے بعد امریکی حکام کو ستاون اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

بینک کا کہنا ہے کہ جب جرمانہ کی ادائیگی مکمل ہو جائے گی تب ویگلن ایک بینک کے طور پر خدمات فراہم کرنا بند کر دے گا۔

بینک نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے سو سے زائد امریکیوں کو ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر امریکہ کے داخلی ریونیو کے محکمے سے دس سال تک چھپانے میں مدد کی۔

ویگلن بینک سوئٹزرلینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے سینٹ گیلن میں قائم ہے اور اس امریکہ کی آزادی سے پینتیس سال قبل شروع کیا گیا تھا۔

یہ امریکہ میں پہلا غیر ملکی بینک ہے جس نے امریکی عوام کو ٹیکس چوری میں معاونت دینے کا اعتراف جرم کیا ہے۔

دوسرے سوئس بینک بھی کچھ عرصے سے امریکی شہریوں کو اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت فراہم نہیں کر رہے۔

امریکی وکیل پریت بھرارا کا کہنا ہے کہ ’اس بینک نے جانتے بوجھتے ہوئے اس خلاء کو پر کرنے کی کوشش کی جسے دوسرے بینکوں نے خالی چھوڑا تھا جب ان پر امریکی حکام نے اس طرح کی کارروائیاں روکنے کے بارے میں دباؤ ڈالا تھا۔‘

"اس بینک نے جانتے بوجھتے ہوئے اس خلاء کو پر کرنے کی کوشش کی جسے دوسرے بینکوں نے خالی چھوڑا تھا جب ان پر امریکی حکام نے اس طرح کی کارروائیاں روکنے کے بارے میں دباؤ ڈالا تھا۔"

امریکی وکیل پریت بھرارا

پریت بھرارا نے کہا کہ ’یہ ہماری ان کوششوں میں ایک اہم مقام ہے جن کے ذریعے ہم ایسے افراد اور بینکوں کا احتساب کررہے ہیں چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں جو امریکی خزانے کو کھربوں ڈالر کے ٹیکس سے محروم کر رہے ہیں‘۔

بینک کے ایک مینیجنگ پارٹنر اوٹو بروڈرر نے کہا کہ بینک کو پتا تھا کہ اس کا سابقہ کردار غلط تھا۔

اس بینک پر جب پچھلے سال یہ مقدمہ دائر کیا گیا تھا تو امریکی عدالت نے اسے مفرور قرار دے دیا تھا جب اس کے اہلکار عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔

بعد میں بینک نے ان الزامات کا سامنا کرنے کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ بینک ایسا اس لیے کر پا رہا ہے کیونکہ اس کی شاخیں صرف سوئٹزر لینڈ میں ہیں اور وہ صرف سوئٹزرلینڈ کے نرم قوانین کی پابندی کرنے کا پابند ہے۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا بینک نے اپنے ان امریکی صارفین کے نام امریکی حکام کو دیے ہیں یا دینے کا عندیہ دیا ہے یا نہیں۔

دوسری جانب یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا امریکی حکام اس کے بعد ویگلن بینک کے تین اہلکاروں مائیکل برلنکا، اُرس فری اور روجر کیلر پر اسی نوعیت کے الزامات کی پیروی جاری رکھیں گے یا ان کو ختم کر دیں گے۔

اس کیس سے چار سال قبل ایک اور سوئس بینک یو بی ایس نے امریکی حکام کو سات سو اسی ملین ڈالر کا جرمانہ ٹیکس چوری کے الزامات کی مد میں ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ تھی یو بی ایس نے امریکی حکام کو اپنے امریکی کھاتہ داروں کی تفصیلات بھی دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ نہ ہی یو بی ایس اس معاملے میں مجرم ثابت ہوا تھا نہ ہی اس نے اعتراف جرم کیا تھا اور امریکی حکام اور بینک نے ایک معاہدے کے تحت الزامات کے بدلے جرمانہ ادا کر کے معاملہ ختم کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔