جاپان: سترہ لاکھ ڈالر میں مچھلی کی نیلامی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 17:15 GMT 22:15 PST
کیوشی کیمورا

کیوشی کیمورا نے اس برس نیلامی میں تین گناپیسہ خرچ کیا

جاپان میں ایک بلیوفن ٹونا مچھلی سترہ لاکھ ڈالر میں نیلام ہوئي جو گذشتہ برس نیلام ہونے والی مچھلیوں کی زیادہ سے زیادہ قیمت کا تقریباً تین گنا ہے۔

دارالحکومت ٹوکیو کے سکوجی مچھلی بازار میں روایتی طور پر بڑی نیلامیوں سے سال کی ابتداء ہوتی ہے۔

یہ مچھلی جاپان میں متعدد ’سوشی‘ ریسٹورنٹوں کے مالک کیوشی کیمورا نے خریدی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قیمت کچھ زیادہ ہی ہے‘۔ گذشتہ برس کی نیلامی میں بھی انھوں نے ہی ریکارڈ قیمت ادا کی تھی۔

مچھلی خریدنے کے بعد ہی انہوں نے اسے اپنی سوشی دکان ’زنمئے‘ بھجوا دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس نیلامی سے جاپانی بازار کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔

اتنی مہنگي مچھلی کا یہ سودا ایک ایسے وقت ہوا ہے جب ماحولیات کے ماہرین نے خبردار کیا کہ ٹونا مچھلی کا شکار بہت زیادہ کیا جا رہا ہے اور ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔

"دنیا کی تقریبا نصف بلیوفن مچھلیاں جاپان میں ہی کھپ جاتی ہیں۔ اس مچھلی کے تعلق سے نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بحرالکاہل میں اس نسل کی مچھلی میں تیزی سے کمی ہورہی ہے۔"

اس سال ریکارڈ قیمت میں فروخت ہونے والی ٹونا مچھلی کو جاپان کے شمال مشرقی سمندر میں پکڑا گيا تھا۔

اس کا وزن دو سو بائیس کلو گرام ہے جو گذشتہ برس ریکارڈ قیمت میں نیلام ہونے والی مچھلی سے سینتالیس کلو کم ہے۔ پچھلے سال نیلام ہوئی مچھلی کی قیمت ساڑھے پانچ کروڑ جاپانی ین تھی۔

اس طرح کی نیلامی میں قیمت کا تعلق مچھلی کے وزن یا اس کی کوالٹی سے نہیں ہوتا اور یہ سب شہرت کے لیے زیادہ ہوتا جس سے نئے سال کی تجارت کا آغاز ہوتا ہے۔

اس مچھلی بازار سے ہر روز لاکھوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور یہ سیاحوں کے لیے بھی بڑی مقبول جگہ ہے۔ یہ مچھلی بازار صبح پانچ بجے ہی کھل جاتا ہے۔

دنیا کی تقریباً نصف بلیو فن مچھلیاں جاپان میں ہی استعمال کی جاتی ہیں۔ اس مچھلی کے حوالے سے نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بحرالکاہل میں اس نسل کی مچھلی میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔