چین: سنسر شپ کے خلاف صحافیوں کی ہڑتال

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 12:43 GMT 17:43 PST
چینی صحافی

رپورٹس کے مطابق سدرن ویکلی کے صحافیوں ديگر اخبارات کے صحافیوں کی بھی حمایت حاصل ہے

معروف چینی ہفت روزہ ’سدرن ویکلی‘ کے صحافیوں نے جریدے میں سنسر شپ کے خلاف بطور احتجاج ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ چین میں اس طرح کی ہڑتالیں کم ہی ہوتی ہیں۔

جنوبی چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں سنسر شپ سے متعلق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ہفتہ روزہ میں نئے سال کے موقع پر ملک میں اصلاح سے متعلق پیغام کو پروپیگنڈا اہلکاروں کی جانب سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ چین میں ہر اخبار کے دفتر میں پروپیگنڈے کا ایک شعبہ ہوتا ہے جو اخبار کے مواد پر نظر رکھتا ہے اور اکثر اسے حکومت کی پالیسیوں کے تحت تبدیل کر دیتا ہے۔

اس واقعے کے بعد اخبار کے عملے نے متعلقہ اہلکار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اخبار کے دفتر کے باہر بڑی تعداد میں صحافی جمع ہوئے ہیں جنہوں نے ایسے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر سنسر شپ ختم کرنے کے مطالبات درج تھے۔

بعض احتجاجیوں نے جو بینرز اٹھا رکھے تھے ان میں سے بعض پر لکھا تھا ’ہمیں پریس کی آزادی، آئین اور جمہوریت چاہیے۔‘

چینی عوام نے بھی احتجاج کرنے والے صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی اور ملک میں سیاسی اور صحافتی آزادی کا مطالبہ کیا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اخبار کے دفتر کے باہر جاری احتجاج میں پولیس نے کسی طرح کی کوئی مداخلت نہیں کی ہے۔

احتجاج میں شامل ایک صحافی او جیانگ نے رائٹرز کو بتایا ’سدرن میڈیا گروپ چین میں ایک ایسا اخبار ہے جو چین کے بارے میں تھوڑا بہت سچ بولنے کو تیار ہے اسی لیے ہم اس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔‘

بیجنگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ سدرن ویکلی شاید چین کا سب سے باوقار اخبار ہے جو وقتاً فوقتاً اپنے تحقیقاتی صحافت کے ذریعے ملک کی سچائی پیش کرتا ہے اور اظہار آزادی کے قانون کا آخری حد تک استعمال کرتا ہے۔

سدرن ویکلی اخبار نے نئے سال کے موقع پر جو پیغام شائع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس میں عوام کے آئینی کے حقوق کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی تھی لیکن اخبار کے پروپيگنڈا سٹاف نے اسے کمیونسٹ پارٹی کی تعریف میں لکھی گئی ایک تحریر سے تبدیل کردیا۔

اس واقعے کے بعد اخبار کے صحافیوں نے پروپیگینڈا سٹاف کے سربراہ کے استعفی کا مطالبہ کیا اور انہیں ایک ’آمر‘ کہا۔ اب اخبار میں کام کرنے کرنے والے تقریباً سو صحافی ہڑتال پر ہیں اور ان کا الزام ہے کہ اخبار پر حکمران پارٹی کا دباؤ ہے۔

اس تنازع کے بارے میں جمعہ کو سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنے ایک اداریے میں لکھا ہے ’سچائی یہ ہے کہ میڈیا کے کنٹرول سے متعلق پرانی پالیسیاں اپنی موجودہ شکل میں نہيں جاری رہ سکتیں۔ سماج میں ترقی ہو رہی ہے اور انتظامیہ کو آگے بڑھنا چاہیے'۔

حالانکہ اس اداریہ میں یہ بھی کہا گیا ہے ’ کچھ بھی ہو چینی میڈیا جس طرح سے بھی ریگولیٹ کیا جائے وہ مغربی میڈیا کی برابری کر سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔