امریکہ:نئے وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سربراہ کی نامزدگی

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 23:38 GMT 04:38 PST

چک ہیگل اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے نامزد جان برنین کی سینٹ سے منظوری لینی ہوگی

امریکی صدر براک اوباما نے منفی سیاسی بازگشت کے باوجود اپنی صدارت کی دوسری مدت کے لیے ایک سابق ریپبلکن سینیٹر چک ہیگل کو وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

چک ہیگل پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل مخالف اور ایران کے معاملے پر نرم رویہ رکھتے ہیں۔

صدر اوباما نے انسدادِ دہشتگردی کے معاملات کے لیے اپنے مشیر جان برینن کو امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا نیا ڈائریکٹر نامزد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

جان برینن بھی سی آئی اے کی جانب سے دوران تفتیش کا سخت طریقۂ کار اپنانے اور عراق جنگ کے حوالے سے غلط انٹیلجنس معلومات فراہم کرنے کے معاملے میں جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

ان دونوں نامزدگیوں کی امریکی سینیٹ سے منظوری لازمی ہے۔

صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرس میں سینیٹر چک ہیگل کو وزیر دفاع نامزد کرتے ہوئے کہا کہ’چک ہیگل ایسے رہنما ہیں جن کے ہمارے فوجی حق دار ہیں‘۔

انہوں نے چک ہیگل کے بارے میں مزید کہا کہ چک’ہمارے فوجیوں کے چیمپیئن‘ ہیں اور اس کے ساتھ وہ ان کی آزادانہ اور دو جماعتوں کے نقطۂ نظر پر مبنی سوچ کی قدر کرتے ہیں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چک یہ جانتے ہیں کہ امریکی رہنمائی ناگزیر ہے لیکن وہ فوجی کارروائی کو آخری حل کے طور پر دیکھیں گے۔’سب سے اہم یہ کہ چک یہ جانتے ہیں کہ جنگ کوئی تصوراتی بات نہیں ہے‘۔

اس موقع پر سینیٹر چک ہیگل نے کہا کہ وہ اپنے پیش رو کے قائم کردہ معیار کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں گے اور امریکہ کے اتحاد کو مستحکم کرنے کا عزم کرتے ہیں۔

چک ہیگل ایک آزادانہ رائے رکھنے والے سینیٹر کی شہرت رکھتے ہیں اور وہ موجودہ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کی جگہ لیں گے۔

ایران کے خلاف نرم رویے

چھیاسٹھ سالہ چک ہیگل کو ویت نام جنگ میں نمایاں کارکردگی پر تمِغہ دیا جا چکا ہے تاہم ایران کے خلاف اُن کے نرم رویے اور اسرائیل کے لیے مخاصمانہ خیالات رکھنے کے باعث خیال ہے کہ سینیٹ سے ان کی منظوری لینا آسان نہیں ہوگا تاہم کسی بھی ریپبلکن سینیٹر نے ہیگن کی نامزدگی رکوانے کی کوشش نہیں کی۔

ری پبلکن ارکان میں نبراسکا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کے اسرائیل مخالف خیالات کی وجہ سے اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

وزارت خارجہ کے لیے نامزد سینیٹر جان کیری، جو ہلری کلنٹن کی جگہ لیں گے، ہیگل اور سی آئی اے کے غیر رسمی نامزد چیف بریننن مل کر اوباما کی دوسری مدت صدارت کے لیے امریکہ کی قومی سکیورٹی پالیسی ترتیب دینے میں مدد دیں گے۔

چھیاسٹھ سالہ چک ہیگل کو ویت نام جنگ میں نمایاں کارکردگی پر تمِغہ دیا جا چکا ہے تاہم ایران کے خلاف اُن کے نرم رویے اور اسرائیل کے لیے مخاصمانہ خیالات رکھنے کے باعث خیال ہے کہ سینیٹ سے ان کی منظوری لینا آسان نہیں ہوگا تاہم کسی بھی ریپبلکن سینیٹر نے ہیگن کی نامزدگی رکوانے کی کوشش نہیں کی۔

چک ہیگل نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی گفت و شنیدکو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ افغانستان کے امن مذاکرات میں ایران کو بھی شامل کیا جائے۔

امریکی دفتر خارجہ کی اہلکار ارون ڈیوڈ میلر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ چک ہیگل نے ایک مرتبہ امریکہ میں اسرائیلی لابی کے بارے میں کہا کہ یہودی لابی یہاں بہت سے لوگوں کو ڈراتی دھمکاتی رہتی ہے، ان کہنا تھا کہ ’میں اسرائیل کا نہیں امریکہ کا سینیٹر ہوں‘۔

ایک امریکی سینیٹر لینڈسے گراہم کا کہنا تھا کہ چک ہیگل امریکی تاریخ کے اسرائیل کے خلاف انتہائی مخاصمت رکھنے والے پہلے وزیر دفاع ہوں گے۔

ایک اور ریپبلکن رکن نے کہا کہ وارت دفاع کے لیے ہیگل کی تقرری سے مشرق وسطی میں ہمارے دوست ملک اسرائیل کے لیے انتہائی غلط پیغام جائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے وارت دفاع کے لیے ہیگل کی نامزدگی پر ہونے والی منفی تنقید کو مستردکرتے ہوئے کہا تھاکہ ہیگل کے نظریات کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔