ہڑتالی چینی صحافیوں کے لیے حمایت کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 12:50 GMT 17:50 PST
چینی صحافی

رپورٹس کے مطابق سدرن ویکلی کے صحافیوں ديگر اخبارات کے صحافیوں کی بھی حمایت حاصل ہے

چین میں میڈیا کے کئی اداروں نے سدرن ویکلی کے صحافیوں کی جانب سے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے جو سینسرشپ کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔

مختلف اخباری ویب سائٹس جیسا کہ سینا، سوہو اور ٹین سینٹ نے حکومت کا منظور کیا ہوا اداریہ شائع کیا جس میں ہڑتالی صحافیوں پر تنقید کی گئی تھی مگر اس کے ساتھ ایک وضاحت لکھی کہ اس اداریے کی اشاعت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس میں لکھی گئی رائے سے متفق ہیں۔

چار معروف اخبارات ژیاؤ ژیانگ مارننگ پوسٹ، شنگھائی مارننگ پوسٹ، چائنہ یوتھ ڈیلی اور اوریئنٹل ڈیلی کے پرنٹ ایڈیشن نے اس اداریے کو جگہ نہیں دی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سدرن ویکلی کے صحافی حکومتی پروپیگنڈہ دفتر کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق پولیس نے اخبار کے ہیڈکوارٹر کے باہر اخبار کے حمایتی اور ہڑتال پر گئے صحافیوں کے درمیان ایک لڑائی میں مداخلت کر کے اسے روکا۔

"سچائی یہ ہے کہ میڈیا کے کنٹرول سے متعلق پرانی پالیسیاں اپنی موجودہ شکل میں نہيں جاری رہ سکتیں۔ سماج میں ترقی ہو رہی ہے اور انتظامیہ کو آگے بڑھنا چاہیے۔"

سرکاری اخبار گلوبل ٹائمزکا ایک اداریہ

جنوبی چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں سنسر شپ سے متعلق یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ہفتہ روزہ میں نئے سال کے موقع پر ملک میں یقینی آئینی اصلاحات سے متعلق پیغام کو پروپیگنڈا اہلکاروں کی جانب سے اشاعت سے قبل تبدیل کر دیا گیا تھا۔

سدرن ویکلی اخبار نے نئے سال کے موقع پر جو پیغام شائع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس میں عوام کے آئینی کے حقوق کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی تھی لیکن اخبار کے پروپيگنڈا سٹاف نے اسے کمیونسٹ پارٹی کی تعریف میں لکھی گئی ایک تحریر سے تبدیل کر دیا۔

واضح رہے کہ چین میں ہر اخبار کے دفتر میں پروپیگنڈے کا ایک شعبہ ہوتا ہے جو اخبار کے مواد پر نظر رکھتا ہے اور اکثر اسے حکومت کی پالیسیوں کے تحت تبدیل کر دیتا ہے۔

اس واقعے کے بعد اخبار کے صحافیوں نے دو خطوط کے ذریعے پروپیگینڈا سٹاف کے سربراہ تئو ژین کے استعفی کا مطالبہ کیا اور انہیں ایک ’آمر‘ کہا۔ اس کے بعد سے اخبار میں کام کرنے کرنے والے تقریباً سو صحافی ہڑتال پر ہیں اور ان کا الزام ہے کہ اخبار پر حکمران پارٹی کا دباؤ ہے۔

اس واقعے کے بعد اطلاعات کے مطابق اخبار کے دفتر کے باہر بڑی تعداد میں صحافی جمع ہوئے ہیں جنہوں نے ایسے پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر سنسر شپ ختم کرنے کے مطالبات درج تھے

اس تنازعے کے بارے میں جمعہ کو سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنے ایک اداریے میں لکھا: ’سچائی یہ ہے کہ میڈیا کے کنٹرول سے متعلق پرانی پالیسیاں اپنی موجودہ شکل میں جاری نہیں رہ سکتیں۔ سماج میں ترقی ہو رہی ہے اور انتظامیہ کو آگے بڑھنا چاہیے‘۔

اخبار گلوبل ٹائمز کا یہ اداریہ کئی اخباری ویب سائٹس پر شائع کیا گیا جو کہ اطلاعات کے مطابق حکومت کی منشا پر لکھا گیا تھا۔

اس حکم نامے کی کاپیاں انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس پر رکھی گئی ہیں جس میں اس واقعے کی ذمہ داری ’غیر ملکی دشمن قوتوں‘ پر ڈالی گئی ہے اور کارکنوں سے کہا گیا کہ وہ ان صحافیوں کی مدد نہ کریں۔

بیجنگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارٹن پیشنس کے مطابق سدرن ویکلی شاید چین کا سب سے باوقار اخبار ہے جو وقتاً فوقتاً اپنی تحقیقاتی صحافت کے ذریعے ملک کی سچائی پیش کرتا ہے اور اظہار آزادی کے قانون کا آخری حد تک استعمال کرتا ہے۔

"سدرن میڈیا گروپ چین میں ایک ایسا اخبار ہے جو چین کے بارے میں تھوڑا بہت سچ بولنے کو تیار ہے اسی لیے ہم اس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔"

احتجاج میں شامل ایک صحافی او جیانگ

اس اخبار کی اگلی اشاعت جمعرات کو ہے جس کے بارے میں خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اخبار کے مدیر اور پروپیگنڈہ کے دفتر کے اہلکار مذاکرات کر رہے ہیں کہ اس میں صحافی اب کیسے لکھیں گے۔

اس سارے تنازعے کو چین میں نئی قیادت کے تناظر میں بہت توجہ سے دیکھا جا رہا ہے جس نے نومبر سے اقتدار سنبھالا ہے۔

اس کی وجہ سے انٹرنیٹ پر بھی گرما گرم بحث ہو رہی جس میں بلاگر اور صحافی حصہ لے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ چین میں اس طرح کی ہڑتالیں کم ہی ہوتی ہیں اس بار ان صحافیوں کی حمایت میں چینی عوام نے بھی احتجاج کرنے والے صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی اور ملک میں سیاسی اور صحافتی آزادی کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں شامل ایک صحافی او جیانگ نے رائٹرز کو بتایا ’سدرن میڈیا گروپ چین میں ایک ایسا اخبار ہے جو چین کے بارے میں تھوڑا بہت سچ بولنے کو تیار ہے اسی لیے ہم اس کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔