لاکھوں شامی باشندوں کو فاقوں کا سامنا

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 14:09 GMT 19:09 PST

شام میں خوراک فراہم کرنے والے ٹرکوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ بائیس ماہ کی خانہ جنگی کی وجہ سے کوئی دس لاکھ افراد نہ صرف مجبوری اور لاچاری کی زندگی بس کر رہے ہیں، بلکہ انہیں فاقوں کا سامنا ہے۔

عالمی خوراک کے پروگرام کا کہنا ہے کہ وہ پندرہ لاکھ شامی باشندوں کو خوراک فراہم کر رہا ہے۔ مگر اُسے خوراک کی تقسیم میں بہت دشواری کا سامنا ہے۔ خصوصاً سامان کی فراہمی کے لیے وہ بمشکل تارتس کی بندرگاہ ہی استعمال کر سکتے ہیں اور بہت سے لوگوں تک خوراک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق مارچ دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی شورش میں کوئی ساٹھ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں باغی جنگجوؤں کو ملک کے شمالی علاقوں میں خاصی کامیابیاں ملی ہیں اور بہت سے علاقوں پر اُن کا کنٹرول بھی ہوگیا ہے۔

تاہم ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شمالی شہروں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث عالمی خوراک پروگرام کو ہومس، حلب، تارتس اور قمسلی سے اپنا عملہ واپس بلانا پڑا۔

" اقوام متحدہ کے ادراہ برائے پناہ گزینہ کے مطابق اب تک پانچ لاکھ ستانوے ہزار دو چالیس پناہ گزینوں کا اندراج ہوچکا ہے۔ جبکہ چھ جنوری کے بعد آنے والے ابھی اندراج کے انتظار میں ہیں۔"

ترجمان الزبتھ بائرز کا کہنا تھا کہ 2012 کے اختتامی مہینوں میں خوراک کا سامان لیجانے والے ٹرکوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا تھا۔

اس دوران اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے بتایا ہے کہ پناہ گزینوں کی آمد میں یکدم اضافہ ہوا ہے اور صرف گزشتہ ماہ ہی میں شام کے مختلف شہروں سے ایک لاکھ افرد لڑائی سے بچ کر بھاگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک پانچ لاکھ ستانوے ہزار دو چالیس پناہ گزینوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ جبکہ چھ جنوری 2013 کے بعد آنے والے ابھی اندراج کے انتظار میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق کوئی چالیس لاکھ شامی باشندوں کو امداد کی ضرورت ہے۔

حکومت کے مخالف جنگجوؤں کو حالیہ ہفتوں میں خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں۔تاہم دمشق سمیت بڑے شہروں کے ارد گرد انہیں فوج کی جانب سے سخت مقابلے اور تباہ کن ہوائی حملوں کا سامنا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپوٹ کے مطابق شامی فوج روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ کمیائی اور اعصاب شکن گیس کے ہتھیار بھی استعمال کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات پر مغربی ملکوں نے صدر اسد کو ایسے ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

تاہم شام کی حکومت ان اطلاعات کی تردید کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔