سعودی عرب: سری لنکا کی ملازمہ کا سرقلم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 15:38 GMT 20:38 PST

گھریلو ملازمہ رضانہ نفیق کو سزائے موت دے دی گئی

سعودی عرب میں سری لنکا سے آئی ہوئی ایک گھریلو ملازمہ رضانہ نفیق کا سر قلم کردیا گیا ہے۔ اُن پر 2005 میں اپنی زیرِ نگہداشت ایک چار ماہ کے بچے کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

کولمبو میں سری لنکا کی وزارت خارجہ کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ رضانہ نفیق نے بچے کو ہلاک کرنے کے الزام کی ہمیشہ تردید کی تھی۔

ملا زمہ کے حامی کہتے ہیں بچے کی ہلاکت کے وقت وہ محض سترہ برس کی تھی، اُسے سزائے موت اور اُس پر عملدرآمد بچوں کے حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

سری لنکا کی پا رلیمان میں بدھ کو رضانہ نفیق کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

" انسانی حقوق کی تنظمیوں ایمنسٹی انٹر نیشنل اور ہیومن رائٹ واچ نے اس کیس کی کاروائی کے طریقہ کار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے"

اطلاعات کے مطابق سری لنکا کے صدر راجا پکشے اور رضانہ نفیق کے والدین نے شاہ عبد اللہ سے رحم کی اپیلیں کی تھی، جو مسترد کردی گئی۔

سری لنکا کے بیرون ملک کارکنوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک رکن پارلیمان راجن راما نائیکا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کا طرز عمل انتہائی آمرانہ ہے جو کبھی کسی یورپی یا امریکی کے سر تو قلم نہیں کرتے مگر ایشائی اور افریقی نژاد کو کبھی معاف نہیں کرتے۔

سعودی عرب کی عدالت نے 2007 میں رضانہ نفیق کو سزائے موت سنائی تھی۔ اُن پر 2005 میں اُس چار ماہ کے بچے کو ہلاک کرنے کا الزام تھا جس کی نگہداشت کے لیے وہ مامور تھی۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظمیوں ایمنسٹی انٹر نیشنل اور ہیومن رائٹ واچ نے اس کیس کی کارروائی کے طریقۂ کار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سری لنکا کی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ترجمے کے شدید مسائل تھے، اور یہ کہ دوران سماعت رضانہ نفیق کا ا عتراف جرم دراصل ترجمے کی غلطی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمہ رضانہ کو اکثر اپنے وکلا سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اُن کے سزائے موت پر عملدرآمد بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے بنائے اقوام متحدہ کے اُس چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے، جس پر خودر سعودی عرب نے بھی دستخط کر رکھے ہیں۔

سعودی حکومت کی جانب اس بارے میں ابھی کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔