شامی باغیوں نے ایرانی یرغمالی رہا کر دیے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 12:45 GMT 17:45 PST

ان ایرانیوں کو شامی باغیوں نے اغوا کرنے کے بعد الزام عائد کیا تھا کہ یہ شامی حکومت کی امداد کے لیے شام میں آئے ہوئے ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کی ایک اطلاع کے مطابق شام میں گزشتہ سال اگست میں یرغمال بنائے گئے اڑتالیس ایرانیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ایک ترک رفاہی ادارے کے مطابق ان یرغمالیوں کی رہائی شامی حکومت کی جانب سے اکیس سو تیس قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں ممکن ہوئی ہے۔

شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں نے ان ایرانیوں پر شامی حکومت کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا جبکہ ایران کا کہنا تھا کہ ان افراد میں بے شک بعض ریٹائرڈ فوجی تھے مگر یہ سب زائرین تھے جو شام میں مختلف شیعہ مقامات مقدسہ کی زیارت کے لیے گئے تھے۔

ایران کی زائرین اور سفری سہولیات کے تنظیم کے مطابق اس گروہ میں یونیورسٹی طلباء اور کچھ حکام تھے۔

ان یرغمالیوں کے اغوا کے فوری بعد شامی باغیوں کے البرعہ بریگیڈ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھتے ہیں، اور شام میں حکومت کے لیے کام کرنے کے لیے آئے ہیں۔

شامی حکومت نے ابھی تک ان یرغمالیوں کی رہائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔ جبکہ ایران کے سرکاری ٹی وی نے ایرانیوں کے بدلے شامیوں کی رہائی کی کوئی خبر نہیں۔

بدھ کے روز ترکی سے تعلق رکھنے والے اسلامی خیراتی ادارے ہیومینیٹیرین ریلیف فاؤنڈیشن نے کہا تھا کہ ان ایرانیوں کے بدلے میں اکیس سو تیس قیدی رہا کیے جائیں گے۔

اس تبادلے میں زیادہ تر شامی شہری ہیں جن کے بدلے میں ایرانی یرغمالی رہا کیے جا رہے ہیں، مگر کچھ ترک شہری بھی ہیں۔

اس تنظیم کے سربراہ بلند یلدرم دمشق میں ان یرغمالیوں کی رہائی کے وقت موجود تھے۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق یہ معاہدہ ترکی اور قطر کی مدد سے ممکن ہوا ہے جو صدر ا سد کے خلاف بغاوت میں باغیوں کی حمایت کررہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔