’دنیا کا آدھا کھانا تو ضائع ہو جاتا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 08:27 GMT 13:27 PST
غذائی اشیاء

رپورٹ میں کہا گیا کھانا ضائع ہونے کی ایک وجہ کھانے کو سٹور نہ کرنے کی سہولیات کا فقدان ہے

برطانیہ کی ایک تنظيم نے رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر لوگ جو غذائی اشیاء بنائی جاتی ہیں اس کا نصف حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ ضائع ہونے والے غذائی اشیاء کی مقداد دو ارب ٹن بتائی گئی ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف مکینیکل انجینئرنگ کا کہنا ہے کہ غذائی اشیاء ضائع ہونے کی اہم وجوہات میں اس کو محفوظ رکھنے کے ناقص انتظامات، ایکسپائری کی تاریخ کا سختی سے اطلاق اور صارفین کی سستی شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں تیس فیصد سبزیاں اس لیے اگائی نہیں جاتیں کیونکہ وہ سبزیاں دیکھنے میں خوبصورت نہیں ہوتی ہیں۔

انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ٹم فاکس کا کہنا ہے کہ غذائی اشیاء کی جو مقدار ضائع ہوتی ہے وہ ’حیرت انگیز‘ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہر سال پوری دنیا میں جو چار بلین ٹن غذائی اشیاء پیدا کی جاتی ہے اس کا تیس سے پچاس فی صد حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ میں لوگ جو کھانا خریدتے ہیں اس کا نصف حصہ پھینک دیتے ہیں۔

ڈاکٹر فاکس کا کہنا ہے ’غدائی اشیاء کی جو مقدار پوری دنیا میں ضائع کردی جاتی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ جو کھانا ضائع کردیا جاتا ہے اسے دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی یا پھر بھوک سے مر رہے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔‘

"جو کھانا کبھی کھایا ہی نہیں گیا اس کو پیدا کرنے کے لیے پانچ سو پچاس بلین کیوبک میٹر پانی کا استمعال ہوا تھا۔ دو ہزار پچاس تک غذائی اشیاء کی پیداوار کے لیے عالمی سطح پر پانی کی طلب دس سے تیرہ ٹریلین کیوبک میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔"

رپورٹ

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جو کھانا کبھی کھایا ہی نہیں گیا اس کو پیدا کرنے کے لیے پانچ سو پچاس بلین کیوبک میٹر پانی کا استمعال ہوا تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ دو ہزار پچاس تک غذائی اشیاء کی پیداوار کے لیے عالمی سطح پر پانی کی طلب دس سے تیرہ ٹریلین کیوبک میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جس طرح سے پوری دنیا کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اس کے تحت دو ہزار پچھتر تک اضافی تین بلین افراد کا پیٹ بھرنے کی ضرورت ہوگی۔

ڈاکٹر فاکس کا کہنا ہے ’پوری دنیا میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور مطالبات سے زمین، پانی اور توانائی کے ذرائع پر جو دباؤ پڑ رہا ہے اس کے پیش نظر انجینئروں کو چاہیے کہ وہ فصلوں کی پیداوار، انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ اور کھانے کو محفوظ رکھنے کے بہتر طریقہ کار بنائیں۔‘

اس کے علاوہ ان کا بھی یہ کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے حکومتیں، ترقیاتی ادارے اور اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو غذائی اشیاء ضائع کرنے کے لیے تاکید کریں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔