سعودی مجلس شوریٰ میں خواتین کی تعیناتی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 17:12 GMT 22:12 PST
سعودی عورتیں

شاہ عبداللہ نے 2011 میں پہلی بار اعلان کیا تھا کہ عورتوں کو شوریٰ میں رکنیت کی اجازت دی جائے گی۔

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے پہلی بار تیس خواتین کومجلس شوریٰ میں تعینات کیا ہے۔ اس سے پہلے مجلسِ شوریٰ کے تمام ممبران مرد تھے۔

شاہ عبداللہ کے جانب سے دو احکامات جاری کیےگئے جس کے تحت مجلس شوریٰ کے قانون میں ترمیم کی گئی۔ بادشاہ کے احکامات کے مطابق اس شوریٰ میں عورتوں کی نمائندگی بیس فیصد ہوگی۔

شاہ عبداللہ نے عورتوں کو مجلسِ شوریٰ میں شامل کرنے کا فیصلہ علماء کونسل سے مشاورت کے بعد کیا۔

اس سے پہلے اس شوریٰ میں عورتیں بطور مشیر تو شامل تھیں لیکن وہ کونسل کی رکن بننے کی اہل نہیں تھیں۔

سعودی شوریٰ کونسل چار سال کے لیے منتخب کی جاتی ہے اور اس کے فرائض میں قوانین سے متعلق حکومت کو تجاویز دینی ہوتی ہیں۔

سعودی عرب میں عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی وہ کوئی سیاسی عہدہ رکھنے کی اہل ہیں۔ عورتوں کو انیس سو چودہ میں ووٹنگ کا حق مل جائےگا۔

سعودی عرب میں عورتوں کو اکیلے سفر کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی وہ غیر مردوں کے ساتھ گھل مل سکتی ہیں۔

شاہ عبداللہ نے 2011 میں پہلی بار اعلان کیا تھا کہ عورتوں کو شوریٰ میں رکنیت کی اجازت دی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔