بالغ فلموں میں کنڈوم کی شرط کے خلاف قانونی چارہ جوئی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 12 جنوری 2013 ,‭ 10:06 GMT 15:06 PST

ویویڈ انٹرٹینمنٹ بالغوں کے لیے فلمیں بنانی والوں بڑی کمپنیوں میں سے ہے

امریکہ کے لاس اینجلس ریاست میں بالغوں کے لیے فلمیں بنانے والی دو بڑی کمپینوں نے عریاں فلموں کے اداکاروں کے لیے کنڈوم پہننا لازمی قرار دینے کے قانون کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ہے۔

کنڈوم لازمی پہننے کے قانون کو ’اقدام بی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جسے گزشتہ نومبر کو ووٹروں نے پاس کیا تھا۔

ویویڈ انٹرٹینمنٹ اور کلیفا پرڈکشنز کاموقف ہے کہ یہ قانون امریکی آئین میں پہلی ترمیم کے تحت دی گئی اظہار رائے کے حق کے خلاف ہے۔

ایڈز ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن نے اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے عریاں فلموں میں کام کرنے والوں اداکاروں کو ایڈز سے تحفظ ملے گا۔

دوسری طرف ویویڈ انٹرٹینمنٹ کے بانی سٹیون ہیرچ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’میں اس قانون کو ختم کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’ بالغوں کے لیے فلمیں بنانے والی صنعت کی موجودہ میڈیکل ٹیسٹ کرنے کا نظام اچھی طرح کام کر رہا ہے۔‘

عریاں فلموں میں کام کرنے والے اداکاروں کیڈین کراس اور لوگان پیئرس بھی اس قانون کے خلاف مہم میں شریک ہو رہے ہیں۔

"میں اس قانون کو ختم کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔ بالغوں کے لیے فلمیں بنانے والی صنعت کی موجودہ میڈیکل ٹیسٹ کرنے کا نظام اچھی طرح کام کر رہا ہے"

ویویڈ انٹرٹینمنٹ کے بانی سٹیون ہیرچ

کنڈوم پہننے کی شرط پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ عریاں فلموں میں کام کرنے والے اداکاروں کے باقاعدگی کے سات ٹیسٹ ہوتے ہیں اور اس شرط کی وجہ سے بالخ فلموں کے کاروبارو کو نقصان ہوگا۔

عریاں فلموں کے برطانوی اداکار کیرین لی نے گزشتہ سال جنوری میں لاس اینجلس میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ بہت سے لوگ کنڈوم پہن کر بنائی گئی عریاں فلمیں دیکھنا پسند نہیں کرتے۔‘

’اقدام بی‘ کا قانون پہلے ہی سے لاس اینجلس شہر میں پاس ہو چکا ہے اور اب اسے کاونٹی کی سطح پر لایا گیا ہے۔ جس کے تحت وہاں پر بالغوں کے لیے فلمیں بنانے کی اجازت اس شرط پر دی جائے گی کہ عریاں فلمیں بنانے کے دوران اداکار کنڈوم کا استعمال کریں گے۔

ان شرائظ کی وجہ سے بالغوں کے لیے فلمیں بنانے والی کمپینوں نے کیلیفورنیا سے کاروبار باہر لے جانے کی دھمکی دی ہے لیکن انہیں ایسا کرنے میں قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ کیلیفورنیا کی سپریم کورٹ نے 1988 میں حکم دیا تھا کہ فلم پرڈیوسروں کو جسم فروشی کے خلاف قانون کے تحت سزا نہ دی جائے جبکہ اس قسم کا حکم نامہ صرف ایک دوسری ریاست نیو ہمپشائر میں ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں ایڈز کے خطرے کی وجہ سے لاس اینجلس میں بالغوں کے لیے فلمیں بنانا روک دی گئیں تھیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔