شام تناز‏ع، مشرق وسطیٰ میں شدید انسانی بحران

آخری وقت اشاعت:  پير 14 جنوری 2013 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST

شدید سردی کے موسم میں بچے کپڑے اور جوتے کے بغیر ہی موسم کی مار جھیل رہے ہیں

ایک عالمی امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تنازع کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کو شدید قسم کے انسانی بحران کا سامنا ہے۔

شام میں جاری لڑائی اور خراب حالات کے سبب تقریباً چھ لاکھ لوگ اب تک نقل مکانی کر چکے ہیں جو مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔

امریکہ کی عالمی امدادی تنظیم ’انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی‘ نے ایسے افراد کی مدد کے لیے دنیا بھر سے امداد کی اپیل کی ہے۔

تنظیم نے شام میں جاری تنازع کے دوران جنسی تشدد کے واقعات کو خوف ناک بتایا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ دو ہزارہ گيارہ سے شام میں جاری حکومت مخالف مزاحمت میں اب تک ساٹھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

چھ لاکھ افراد تو شام سے نقل مکانی کر چکے ہیں اور تقریباً بیس لاکھ ایسے ہیں جو اندرون ملک ہی بے گھر ہو کر رہ گئے ہیں۔

عالمی تنظیم آئی آر سی کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ نقل مکانی کی وجہ جنسی تشدد بتاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے ریپ اس جنگ کا اہم فیچر ہے۔

تنظیم کے مطابق اس طرح کی جنسی زیادتیاں اکثر اوقات خاندان والوں کی موجودگي میں کی جاتی ہیں۔

اس کی رپورٹ کے مطابق بچنے والے لوگوں کے لیے مناسب طبی مدد یا نفسیاتی امداد خطرناک حد تک کم ہے۔

تنظیم کے مطابق دن بدن گہرے ہوتے اس طرح کے بحران سے نمٹنے کے لیے ملنے والی عالمی امداد بھی بہت کم ہے۔

"پڑوسی ملک لبنان کی وادی بیکا میں شام سے نقل مکانی کرنے والے افراد کا ایک کیمپ ہے جس میں، اتنی شدید سردی کے موسم میں، کوئی بھی بچہ سردی سے بچنے والے کپڑوں میں ملبوس نہیں تھا۔ بیشتر بچے سردی سے کانپ اور کھانس رہے تھے۔ ان میں بعض بچے تو بغیر چپل یا جوتے کے بھی تھے۔"

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ آس پڑوس کا علاقہ جنگ کی وجہ سے ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے اور بہت سے بےگھر افراد خراب حالات سے بچنے کے لیے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

اس دوران علاقے میں سردی کا طوفان بھی ایسا آیا کہ بیس برس کا ریکارڈ ٹوٹ گيا اور پہلے سے ہی مشکل حالات سے دو چار افراد موسم کی مار بھی برداشت کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈیوسٹ کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک لبنان کی وادی بیکا میں شام سے نقل مکانی کرنے والے افراد کا ایک کیمپ ہے جس میں اتنی شدید سردی کے موسم میں، کوئی بھی بچہ سردی سے بچنے والے کپڑوں میں ملبوس نہیں تھا۔

ان کے مطابق بیشتر بچے سردی سے کانپ اور کھانس رہے تھے۔ ان میں بعض بچے تو بغیر چپل یا جوتے کے بھی تھے۔

گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ تقریباً دس لاکھ شامی باشندے بھوک کا شکار ہیں۔

غذاء سے متعلق عالمی ادارہ ’ورلڈ فوڈ پروگرام‘ کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً ایسے پندرہ لاکھ افراد کی مدد کر رہا ہے لیکن جہاں بہت سے علاقوں تک اس کو رسائي نہیں ہو پا رہی وہیں دستیاب مقدار میں امداد بھی نہیں مل۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔