سری لنکا: نئے چیف جسٹس نے حلف اٹھا لیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 14:50 GMT 19:50 PST

سری لنکا کے نئے چیف جسٹس نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

سری لنکا میں قانونی ماہرین کی مخالفت اور عالمی سطح پر مذمت کے باوجود ملک کے نئے چیف جسٹس نے حلف اٹھا لیا ہے۔

اتوار کو صدر نے پارلیمان میں سابق چیف جسٹس مسز شیرانی بندرانائکے کے مواخذے کی توثیق کے بعد انھیں برطرف کر دیا گیا تھا۔

اُن کی جگہ ایک سابق اٹارنی جنرل اور صدر کے ایک سینیئر قانونی مشیر موہن پئرس کو نیا چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔

ملک کے سرکردہ قانونی ماہرین کے مطابق اُن بر طرفی متنازع اور سیاست محرکات کی بنا پر کی گئی ہے۔

اُن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ان سے نجات حاصل کرنا اور عدلیہ کی آزادی پر ضرب لگانا چاہتی ہے۔ اس برطرفی پر عالمی سطح پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی مواخذے پر سری لنکا میں صدر اور عدالت کے اختیارات میں توازن اور علیحدگی کے بارے میں کئی سنگین سوال اٹھتے ہیں، کیونکہ یہ توازن ہی کسی مضبوط جمہوریت کا حسن ہوتا ہے۔

کولمبو میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ اُسے مواخذے کے اس عمل پر ’سخت تشویش‘ ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت قانون کی پاسداری کرے۔

تاہم حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ مسز بندرانائکے کو اُن کے کچھ ناپسندیدہ فیصلوں کے باعث بر طرف کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں حلف اٹھانے کی تقریب میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کی گئے تھے، پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو واضح ہدایات دی گئیں تھیں کہ سابق چیف جسٹس مسز بندرانائکے کو عدالت میں داخل نہ ہونے دیا جائے، حکومت کو خدشہ تھا کہ کہیں مسز بندرانائکے معزول ہونے سے انکار نہ کر دیں۔

تاہم ڈاکٹر بندرانائکے نے کہا تھا کہ وہ عدالت میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں وہاں زبر دستی داخل ہو کر عدالت کا تقدس مجروع نہیں کریں گی۔

اطلاعات کے مطابق اُن سے چیف جسٹس کی سرکاری رہائش گاہ بھی خالی کروا گئی ہے۔

سابق چیف جسٹس مسز بندانائیکے، جن کی بر طرفی کو متنازع قرار دیا جارہا ہے۔

شیرانی بندرانائکے کی برطرفی سے پہلے اُن کے خلاف تفتیش اُس وقت شروع کی گئی تھی جب انہوں نے کئی حکومتی بلوں کے خلاف فیصلے دیے تھے۔

ان میں صدر مہندرا راجا پکسے کے بھائی اور معاشی ترقی کے وزیر باسل راجا پکسے کے اختیارات میں اضافہ کرنے کا بل بھی شامل تھا۔

تاہم حکومتی وزیر اور کمیٹی کے رکن نمل سری پالا ڈی سلوا کا کہنا تھا ’ہم نے چیف جسٹس کے خلاف جن پانچ الزامات کی تفتیش کی ان میں سے تین میں انھیں قصوروار پایا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو جائیداد کے ایک غیرقانونی سودے اور کئی بینک اکاؤنٹ ظاہر نہ کرنے کا قصور وار پایا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے مالیاتی اور پیشہ ورانہ بے ضابطگیوں کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

پارلیمانی قواعد کے تحت چیف جسٹس کو اگر ایک الزام میں بھی قصوروار ٹھہرایا دیا جائے اور دو سو پچیس ارکان کے ایوان کی اکثریت نے ان کے خلاف ووٹ دیدے تو صدر انہیں برطرف کرنے کے مجاز ہیں۔

صدر کی جماعت کو ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔

مسز بندرانائکے نے کمیٹی پر تنقید کی اور کہا کہ انھیں اپنے دفاع کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا، درست قواعد و ضوابط کی پیروی نہیں کی گئی اور رپورٹ مکمل کرنے میں غیرمناسب عجلت سے کام لیا گیا ہے۔

ایک موقع پر انھوں نے پینل پر موجود چار ارکانِ پارلیمنٹ سمیت سماعت سے واک آؤٹ کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر راجاپاکسے نے 2009 میں خونریز اور طویل جنگ کے بعد تمل ٹائیگر باغیوں کو کچلنے کے بعد اپنی ذات میں بے تحاشا طاقت مجتمع کر لی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کو شمالی سری لنکا میں تمل آبادی والے علاقوں کی صورتِ حال پر تشویش ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔