الجزائر: یرغمالی رہا، پچاس ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 20:03 GMT 01:03 PST

یہ ان امیناس گیس فیلڈ لیبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے

الجزائر کی فوج نے شمالی الجزائر میں ایک ’ان امیناس‘ گیس فیلڈ میں اسلامی شدت پسندوں کے یرغمال افراد کو چھڑوا لیا ہے اس بری اور فضائی کارروائی میں پچاس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر شدت پسند شامل ہیں اور یہ کارروائی تب کی گئی جب شدت پسندوں نے تمام یرغمالیوں کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

الجزائر کی فوج نے اس گیس فیلڈ کو اس وقت گھیرے میں لیا جب شدت پسندوں نے ایک برطانوی اور ایک الجزائری شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس کارروائی کے بارے میں الجزائر سے کوئی اطلاع نہیں ہے مگر فرانس، برطانیہ اور ناروے نے اس کارروائی کے کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

الجزائر کے حکام اور میڈیا نے تصدیق کی کہ گیس فیلڈ پر حملے میں یرغمال بنائے جانے والوں میں سے تیس سے چالیس الجزائری شہری اور پندرہ سے بیس غیر ملکی یرغمالی فرار ہونے میں کامیاب ہو ئے ہیں۔

اس سے قبل شدت پسندوں نے کہا تھا کہ انہوں نے 41 غیر ملکیوں کی یرغمال بنایا ہے۔

الجزائر کے وزیر داخلہ داہو اولد کبلیا نے بتایا کہ یہ شدت پسند الجزائری ہیں اور پچھلے سال تک اسلامک مغرب نامی ایک القائدہ تنظیم کے کمانڈر کے مختار بالمختار کے زیر اثر کام کرتے ہیں۔

یرغمال بنائے گئے غیر ملکیوں میں برطانوی، فرانسیسی، امریکی، نارویجین اور جاپانی باشندے شامل تھے۔

اس گیس فیلڈ میں چھ سو الجزائری کارکن کام کرتے ہیں جب کہ چار غیر ملکی جن میں سے دو سکاٹ لینڈ سے، ایک فرانس سے اور ایک کینیا سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں رہا کروایا گیا۔

آئرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے شہری نے رہائی کہ بعد اپنے خاندان سے بات کی ہے۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ادارے نے نامعلوم ذرائع سے یہ بات کہی ہے کہ تقریبًا کہ نصف کے قریب یرغمالیوں کو رہا کروا لیا گیا ہے۔

الجزائر کے وزیر داخلہ داہو اولد کبلیا نے بتایا کہ یہ شدت پسند الجزائری ہیں اور پچھلے سال تک القاعدہ سے تعلق رکھنے والی اسلامک مغرب نامی تنظیم کے کمانڈر مختار بالمختار کے زیر اثر کام کرتے تھے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ شدت پسند کسی بھی ہمسایہ ملک سے الجزائر میں داخل نہیں ہوئے۔

اس سے قبل ایک شدت پسند نے یہ بات کہی تھی کہ اس کارروائی کا مقصد فرانس کی مالی میں کارروائی کا خاتمہ کروانا تھا۔

یہ گیس فیلڈ لیبیا کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اسی وجہ سے پہلے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ حلمہ آور شدت پسند لیبیا کی جانب سے داخل ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔