اسرائیل میں عرب بدو اور صیہونیت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 17:06 GMT 22:06 PST

صحرائے نقب کو اسرائیل کے رقبے کا اسی فیصد کہا جاتا ہے

کیا ایک دن اسرائیل کو ملک کے ایک ایسے بڑے علاقے پر موثر کنٹرول کھونے کا خطرہ ہوگا جس کے بارے میں اس کے بانی کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ اسرائیل کی بقاء کی چابی ہے۔

اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون نے کہا تھا کہ صحرائے نقب کے بغیر اسرائیل مشکل سے ایک ریاست اور مشکل سے یہودی ہو گا۔

تاہم ساٹھ سال کے بعد قدامت پسند یہودیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایک ایسا علاقہ جو اسرائیل کے رقبے کے نصف سے بھی زیادہ ہے بلآخر عرب اکثریتی علاقے میں تبدیل ہو جائے گا۔

یہ گروپ علاقے میں بڑی سرکاری سرمایہ کاری کرنے کا کہہ رہا ہے تاکہ ملک کے وسطی گنجان آباد علاقوں سے یہودی شہریوں کو اس علاقے میں منتقل ہونے پر قائل کیا جا سکے۔

نقب میں طالب علموں کی رضاکارانہ طور پر سماجی کام کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے والی ایک تنظیم آیالم کے ڈینی گلکسبرگ کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم نے تیزی سے کام نہیں کیا تو ہم ایک ایسی صورتحال میں ہوں گے جہاں ہم تباہی کے دھانے پر ہوں گے‘۔

اسرائیل کے جنوب میں واقع نقب اور شمالی علاقہ گیللے اسرائیل کے مجموعی رقبے کا اسّی فیصد ہیں اور یہاں پر بسنے والے غیر یہودی شہریوں کی سب زیادہ تعداد آباد ہے۔

گیللے میں اس وقت بسنے والی آبادی کا چپھن فیصد غیر یہودی ہیں جو زیادہ تر عرب ہیں جبکہ نقب میں بدو عرب یا خانہ بدوش عرب آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔ لیکن حکومت کے سائنسدانوں کے مطابق ان بدو عربوں کی آبادی میں اضافے کی شرح دنیا میں سب سے بلند ہے اور ہر پندرہ سال کے بعد ان کی آبادی دگنی ہو جاتی ہے۔

تنظیم کے کارکن عرب بدووں کے بچوں کو درخت اگانے کی تربیت فراہم کرتے ہیں

اسرائیل میں ان دنوں انتخابات کے بڑے موضوعات میں مقبوضہ مغربی کنارے کا مستقبل اور معیار زندگی ہیں۔ لیکن آیالم تنظیم کے سربراہ کے خیال میں اس علاقے کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے جو کہ ایک ٹائم بم کی طرح ہے۔

انہوں نے کہا ’نقب اور گللے اس وقت اسرائیل کے سب سے بڑے مشن ہیں۔ اگر ہماری اسّی فیصد زمین، سماجی اور معاشی لحاظ سے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور بالکل آخر میں سیاسی اور آبادی کے لحاظ سے، اس کے بعد میرے خیال میں یہودی ایک ملک کے ہونے کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔‘

اسرائیل کے پہلے وزیراعظم کا خواب تھا کہ نقب کے علاقے میں پچاس لاکھ یہودی آباد ہوں اور وہاں کام کریں۔ لیکن آج وہاں مشکل سے پانچ لاکھ افراد ہی رہائش پذیر ہیں اور یہاں روزگار اور سروسز کے نہ ہونے کی وجہ سے مزید لوگوں کو اس بنجر علاقے میں آباد ہونے پر قائل کرنا مشکل کام ہے۔

یہ تنظیم نے گذشتہ کچھ عرصے میں بنائی جانے والی کئی تنظیموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد صیہونیت کی ابتدائی اصل روح کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

اس تنظیم نے ایشلم صحرا کے ایک کنارے پر طالب علموں کا ایک گاؤں بسایا ہے جس میں ایک ہزار نوجوان لوگ رہتے ہیں اور یہاں زیادہ تر عمارتی کام خود ان طالب علموں نے مکمل کیا ہے۔

ایک کارکن یاکر کیرن کا کہنا ہے کہ ’اپنے ہاتھوں سے تعمیر کرنا، اینٹوں کو محسوس کرنا، ریت، اپنے مکان کو تعمیر کرنا اور خود درخت لگانا اور اپنا راستہ خود منتخب کرنا وہ چیزیں ہیں جو آپ کو زمین سے جوڑتی ہیں۔‘

یہ کارکن عرب خانہ بدوشوں کے ایک گاؤں کے قریب میں بھی کام کرتے ہیں جہاں وہ عرب بچوں ایک گرین ہاؤس سکول میں درخت اگانے کے بارے میں سیکھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نقب میں اس وقت درپیش چیلنجز ایک تنازعے سے بڑے ہیں۔ یہاں رہائش اختیار کرنا، اور اس کی ابتداء کرنے والے افراد میں سے ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے خود کو الگ کر لیا، یہ خود مثال قائم کرنے سے شروع ہوتا ہے تاکہ دوسرے آپ جیسا کر سکیں۔

تاہم نقب میں زمین کے استعمال کے حوالے سے حکومت اور بہت سارے بدوؤں کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا ہے جس میں بدوؤں کا کہنا ہے کہ ان کے خاندانوں نے صدیوں سے اس صحرا میں گھوم کر اسے آباد کیا۔

اسرائیل بدو نمائندوں سے مشاورت سے ان کے لیے قصبے تعمیر کر رہا ہے تاہم اب بھی علاقے میں کئی دیگر مقامات پر بدو سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے رہائش پذیر ہیں۔

علاقے میں کئی یہودی تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور ان کامقصد علاقے میں صیہونیت کو فروغ دینا ہے

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سرکاری پالیسی کے تحت عرب بدوؤں کو منصوبہ بندی کے تحت بسائی گئی آبادیوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ ماضی کے برعکس سرکاری وسائل میں ان کو بہتر حصہ مل سکے۔

لیکن ایک متنازع کیس میں ایک سابق گاؤں العرکیب میں بدوؤں کے مکانات کو کئی بار منہدم کیا گیا اور ایسا کرنے کا مقصد سرکار کی جانب سے غیر قانونی ملکیت کی جنگ کو جیتنا تھا۔

اعواد ابو فرئی کا خاندانی مکان پر منہدم کیے جانے والے مکانات میں شامل تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ علم کیمیا کے پروفیسر ہیں اور یہودی اور عرب طالب علموں کو ایک ساتھ لیکچرز دیتے ہیں جس سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں عرب بدو کس طرح سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔

وہ حکومت کی اپنے لوگوں کے بارے میں پالیسی پر خاصی تنقید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’انہوں نے ہمیں شہروں میں دھکیل دیا ہے تاکہ ہمارے پر توجہ دے سکیں۔ وہ بہت سارے بدوؤں کو ایک چھوٹی سی جگہ اور وسیع جگہ پر چند یہودیوں کو بسانا چاہتے ہیں۔

بہت سارے بدو اپنا فارم ہاؤس چاہتے ہیں تاہم یہودیوں کو زراعت کے لیے بدوؤں کے مقابلے میں آسانی سے اراضی مل جاتی ہے کیونکہ بدوؤں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ قصبوں میں رہیں۔

قانون کے مطابق یہودیوں اور عرب اسرائیلیوں کو ایک جیسی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے ایک یہودی کارکن افر ڈیگن کا کہنا ہے کہ نقب میں اراضی دینے کی پالیسی یہودیوں کے مقابلے میں بدوؤں کو کم مواقع دیتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک جمہوری یہودی ریاست کی بقاء کے لیے نقب میں یہودیوں کا ہونا چاہیے۔ یہ سچ نہیں ہے کیونکہ اس کا مقصد ایک یہودی ریاست بنانا تو ہو سکتا ہے لیکن ایک حقیقی طور پر جمہوری ریاست نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔