لشکرِ طیبہ کی مدد، پاکستانی نژاد کینیڈین کو سزا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 02:05 GMT 07:05 PST
تہور رانا

عدالت نے انہیں ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔

امریکہ کی ایک عدالت نے پاکستانی شدت پسند گروپ لشکر طیبہ کی مدد کرنے کے جرم میں پاکستانی نژاد کینیڈین شہری تہور حسین رانا کو چودہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

انہیں شکاگو میں عدالتی جیوری نے جون 2011 میں لشکر طیبہ کی امداد کے علاوہ ڈنمارک کے ایک اخبار پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کا مجرم بھی قرار دیا تھا۔

رانا اور ان کے ساتھی، لشکر طیبہ کے شدت پسند اور ممبئی حملوں کے اہم ملزمان میں سے ایک ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کو اکتوبر 2009 میں ڈنمارک کے اخبار يلیڈس پوستین کے دفاتر پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس اخبار نے پیغمبرِ اسلام کے متنازع کارٹون شائع کیے تھے۔

شروع میں تہور رانا پر بھی ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا لیکن عدالت نے انہیں اس الزام سے بری کر دیا تھا تاہم بھارت ابھی بھی نے رانا پر لگائے گئے الزام پر مصر ہے اور ان سے پوچھ گچھ کرنا چاہتا ہے۔

ممبئی حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مرکزی عدالت میں جج نے 14 سال قید کی سزا کے بعد بھی مزید پانچ سال تک تہور رانا کو زیرِ نگرانی رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔

عدالت کے فیصلے کے بعد قائم مقام اٹارنی گیری شپيرو نے کہا کہ ’یہ سخت قید کی سزا ان لوگوں کے لیے سبق آموز ہونی چاہیے جو دہشت گرد كارروائي کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔ انہیں پتہ چل جانا چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کو مدد دیتے ہوئے پردے کے پیچھے چھپے نہیں رہ سکتے وہ ضرور پکڑے جائیں گے اور سزا سے بچ نہیں سکیں گے‘۔

حملے کے دوران ممبئی کی ایک تصویر

اس سے پہلے سرکاری وکیلوں نے 52 سالہ رانا کے لیے 30 سال سزا کا مطالبہ کیا تھاجبکہ عدالت میں دفاع کے وکیل صرف نو سال کی ہی سزا کی درخواست کر رہے تھے۔

عدالتی كارروائي کے دوران رانا کو ایف بي آئي کے وڈيو ٹیپ پر یہ کہتے سنا گیا تھا کہ ہیڈلی نے لشكرِ طیبہ سے تربیت حاصل کی تھی۔

رانا پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے ہیڈلی کو اپنی ٹریول ایجنسی کی برانچ ممبئی میں بھی کھولنے کی اجازت دی تھی جس کی آڑ میں ہیڈلی نے حملوں کی تیاری کی۔ اس کے علاوہ اسی ایجنسی کے مبینہ ایجنٹ کے طور پر ڈنمارک کے لیے ہوائی سفر کا بندوبست کیا۔

ہیڈلی کو بھارت میں عوامی مقامات پر بم حملوں کی سازش کرنے اور بھارت میں امریکی شہریوں کے قتل سے متعلق چھ الزامات میں سزائے موت مل سکتی تھی لیکن انہوں نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سے سزا میں رعایت کا سمجھوتہ کر لیا اور رانا کے خلاف عدالت میں اہم گواہ بن گئے۔

رانا کے ساتھی اور لشکر طیبہ کے شدت پسند ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کو 24 جنوری کو سزا سنائی جائے گی۔

پاکستانی نژاد رانا نے 2001 میں کینیڈا کی شہریت لی تھی اور 2009 میں گرفتاری سے پہلے وہ امریکہ کے شہر شکاگو میں رہ رہے تھے۔ وہ ٹریول ایجنسی سمیت کئی کاروبار سے کرتے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔