’برما میں سپٹ فائرز کا سراغ نہیں ملا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 15:17 GMT 20:17 PST

رنگون کے ہوائی اڈے کے ارد گرد بڑی تعداد میں آہنی مواد مدفون ہے جس سے اس نظریے کو تقویت ملی کہ چھتیس کے قریب جہاز وہاں مدفون ہیں

ماہرین آثارِ قدیمہ جو دوسری جنگ عظیم کے دوران مبینہ طور پر برما میں دفن کیے جانے والے ایک سو چوبیس سپٹ فائرز جنگی جہازوں کی تلاش میں تھے کا کہنا ہے کہ انہیں کھدائی کی گئی جگہوں سے ایسے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔

ماہرین آثارِقدیمہ نے کہا ہے کہ یہ ابتدائی دعوؤں کو مسترد کرتا ہے جن کے مطابق جنگ کے اختتام پر ایک سو چوبیس سپٹ فائر جنگی جہاز برما میں مختلف جگہ دفن کیے گئے تھے۔

وار گیمنگ ڈاٹ نیٹ جو اس کھدائی کے لیے مالی معاونت کر رہا ہے کا کہنا ہے کہ ان جگہوں پر کوئی جہاز نہیں ہے۔

دوسری جانب اس منصوبے کے سربراہ ڈیوڈ کنڈل کا کہنا ہے کہ وہ غلط جگہ پر دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت پریشان ہیں مگر وہ اس مہم کو جاری رکھیں گے اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ سپٹ فائر جنگی جہاز برما میں مدفون ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ معذرت کریں گے اگر ایسا ثابت نہ ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ ’بالکل کروں گا مگر میں نے کوشش کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بہتر ہو گا کہ ہم کوشش کر کے ناکام ہوں نہ کہ بغیر کوشش کے ناکامی کی بات کریں۔‘

سپٹ فائر جنگی جہاز دوسری جنگ عظیم کے دوران برما کے محاذ پر بہت زیادہ استعمال کیا گیا

جنوری کے ابتداء میں اس جگہ کا ایک ابتدائی سروے کیا گیا تھا جس کے بعد کھدائی کا کام شروع کیا جانا تھا۔

جمعے کے روز وار گیمنگ لمیٹڈ کی جانب سے اعلان کردہ ایک پریس کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا تھا جس کے بعد کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مزید تفصیلات بعد میں مہیا کی جائیں گی۔

ہمارے نمائندے کے مطابق جب ترجمان پر زور ڈالا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہاں کوئی سپٹ فائر جہاز نہیں ہیں۔

برطانوی شہری ڈیوڈ کنڈل نے گزشتہ سترہ سال اس بات کی سچائی تک پہنچنے میں گزارے ہیں کہ برطانوی شاہی فضائیہ نے انیس سو پینتالیس میں جنگ عظیم دوم کے اختتام پر کئی غیر استعمال شدہ سپٹ فائر جہاز لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے حکم پر کریٹوں میں بند کر کے برما میں مختلف مقامات پر دفنا دیے تھے۔

انہوں نے اس معاملے میں کئی برطانوی اور امریکی فوجیوں کے اور کئی مقامی عینی شاہدین کے بیانات جمع کیے ہیں۔

ان میں سے ایک برطانوی فوجی سٹینلے کومب نے برما سفر کر کے اس کھدائی کا مشاہدہ کیا۔ اس کھدائی کا آغاز بیلاروس کی ایک کمپنی وار گیمنگ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے مالی معاونت ملنے کے بعد ہی شروع کیا گیا۔ اس کھدائی کی اجازت برما کے صدر تھیئن سیئن نے گزشتہ سال برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دورے کے دوران ان سے ایک ملاقات کے دوران دی تھی۔

سپٹ فائر جنگی جہاز ایک پائلٹ کے ساتھ پرواز کرنے والا جہاز تھا جس کو جنگ عظیم دوئم کے دوران بڑی تعداد میں تیار کیا گیا تھا

کنڈل کو یقین ہے کہ ایک سو چوبیس کے قریب سپٹ فائر جنگی جہاز برما میں مختلف مقامات پر مدفون ہیں۔

اس کھدائی سے پہلے سائنسدانوں نے دریافت کیا تھا کہ رنگون کے ہوائی اڈے کے ارد گرد بڑی تعداد میں آہنی مواد مدفون ہے جس سے اس نظریے کو تقویت ملی کہ چھتیس کے قریب جہاز وہاں مدفون ہیں۔

جنوری کے آغاز میں کاچن ریاست کے دارالحکومت میچینا کے قریب سے ایک کریٹ ملا تھا مگر کیچڑ آلود پانی نے اس کے اندر موجود چیزوں کی فوری شناخت مں رکاوٹ ڈال دی تھی۔

مرکزی شہر میکتیلا کے قریب ایک اور جگہ کی شناخت ہوئی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں سپٹ فائر جہاز مدفون ہو سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔