’دولت کی بڑھتی ہوئی غیر مساوی تقسیم‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 20:27 GMT 01:27 PST

برطانوی خیراتی ادارے آکسفیم نے کہا ہے کہ دنیا میں گزشتہ سال سو امیر ترین لوگوں نے اتنی دولت کمائی جس سے دنیا میں بسنے والے غریب ترین افراد کی چار بار غربت مٹائی جا سکتی تھی۔

یورپی ملک سوئٹزرلینڈ میں آئندہ ہفتے منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے پہلے آکسفیم نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس غیر مساوی تقسیم کے مسئلے سے نمٹیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا کے معاشی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ یہ تمام انسانیت کے مفادات کے لیے کام کر سکے۔

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق بے پناہ دولت معاشی طور پر غیر فعال، سیاسی طور پر کھا جانے والی اور سماجی طور پر تقسیم کرنے والی ہے۔

آکسفیم کی رپورٹ’ غیر مساوی تقسیم کی قیمت‘ میں کہا گیا ہے کہ کس طرح سے بے پناہ دولت اور آمدن ہمیں نقصان پہنچاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بے پناہ دولت غربت سے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

آکسفیم کے مطابق دنیا کی آبادی کے محض ایک فیصد نے گزشتہ بیس سال کے دوران اپنی آمدن میں ساٹھ فیصد تک اضافہ کیا۔

آکسفیم کے بقول دنیا کے سو امیر ترین افراد گزشتہ سال دو سو چالیس ارب ڈالر کی خالص آمدن سے لطف اندوز ہوئے جبکہ دنیا میں انتہائی غریب افراد نے ایک اعشاریہ دو پانچ ڈالر روزانہ میں گزر بسر کیا۔

آکسفیم کے چیف ایگزیکٹو باربرا سٹوکنگ کا کہنا ہے کہ’ اب ہم زیادہ دیر تک یہ دکھاوا نہیں کر سکتے کہ چند ایک کے لیے دولت پیدا کرنے سے لامحالہ بہت ساروں کو فائدہ پہنچتا ہے ، بہت زیادہ اس کا الٹ ہونا سچ ہے۔‘

’سرفہرست ایک فیصد کے ہاتھ میں وسائل جمع ہونے سے معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور ہر کسی کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے اور اس میں معاشی سیڑھی کے آخری پائیدان پر کھڑے افراد سب سے زیادہ مشکل سے دوچار ہوتے ہیں‘۔

آکسفیم نے مطالبہ کیا ہے کہ کئی دہائیوں سے بڑھتی ہوئی غیر مساوری تقسیم کو واپس کرنے کے لیے ایک عالمی سمجھوتہ کیا جائے۔

آکسفیم نے ورلڈ اکنامک فورم پر جمع ہونے والے عالمی رہماؤں کو تجاویز دی ہیں کہ دنیا میں ٹیکس کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے، اس کے علاوہ ٹیکس عائد کرنے کے رجعت پسندانہ رویے کو ختم کیا جائے، عالمی سطح پر کارپوریشنز پر ٹیکس کی شرح، عوام کی مفت سروسز میں زیادہ سرمایہ کاری اور بے روز گار لوگوں، بیماروں کے لیے زیادہ تحفط۔

آکسفیم کے چیف ایگزیکٹو باربرا سٹوکنگ کے مطابق’ یہ وقت ہے جب عالمی رہنما نظام میں اصلاحات کریں تاکہ یہ صرف عالمی اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے مفادات کے لیے کام کرے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔