الجزائر:ہلاکتوں میں اضافہ، 20 یرغمالیوں کی تلاش جاری

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 05:32 GMT 10:32 PST

ان امیناس کے نواحی علاقے میں فوج کی نقل و حرکت جاری ہے

الجزائر میں شمالی صحرا میں واقع ان امیناس گیس فیلڈ میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے اختتام کے دو دن بعد بھی تلاشی کا عمل جاری ہے جبکہ اب بھی بیس غیرملکی یرغمالی لاپتہ ہیں۔

لاپتہ افراد کا تعلق جاپان، ناروے، برطانیہ، امریکہ اور ملائیشیا سے ہے۔

اتوار کوگیس فیلڈ سے مزید بیس لاشیں ملی ہیں جن میں سے کئی اتنی مسخ ہیں کہ یہ شناخت ممکن نہیں کہ وہ یرغمالی تھے یا شدت پسند۔

اس واقعے میں اب تک اسّی افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ ان میں سے اڑتالیس یرغمالی تھے۔

ان امیناس گیس فیلڈ پرگزشتہ بدھ کو درجنوں شدت پسندوں نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا اور وہاں کام کرنے والے سینکڑوں مقامی اور غیر ملکی افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

جمعرات سے الجزائر کی فوج کے خصوصی دستوں نے ان شدت پسندوں کے خلاف اس وقت کارروائی شروع کی تھی جب حکام کے مطابق انہوں نے یرغمالیوں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا تھا۔

یہ کارروائی سنیچر کو مکمل ہوئی تھی جس کے بعد حکام نے آپریشن میں بتیس اغواکاروں اور تئیس یرغمالیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جبکہ متعدد یرغمالی لاپتہ تھے۔

الجزائر کے ایک نجی ٹی وی چینل انہار کے مطابق اب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کوگیس فیلڈ میں بارودی سرنگوں اور خفیہ جنگی رکاوٹوں کی تلاشی کے دوران مزید پچیس یر غمالیوں کی لاشیں ملی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو گیس فیلڈ پر حملے میں ملوث پانچ شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

موریطانیہ کی نیوز ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں الجزائر کے شدت پسند رہنما مختار بلمختار نے امیناس گیس فیلڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ صحارا میڈیا پر چلنے والی اس ویڈیو میں مختار نے مطالبہ کیا ہے کہ مالی میں غیر ملکی فوج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

انہوں نے القاعدہ سے تعلق رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ مختار گزشتہ سال تک مالی سے تعلق رکھنے والی شدت پسند تنظیم اے کیو آئی ایم (القاعدہ ان اسلامک مغرب) کے کمانڈر تھے۔

امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یرغمالیوں کی موت کے لیے شدت پسندوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

دوسری جانب الجزائر کے وزیر توانائی یوسف یوسفی کا کہنا ہے کہ ملک میں توانائی کی تنصیبات کی سکیورٹی کو بیرونی امداد کے بغیر ہی موثر بنایا جائے گا۔

الجزائر کی سرکاری خبر رساں ادارے اے پی ایس کے مطابق وزیر توانائی نے اتوار کو متاثرہ گیس فیلڈ کے دورے کے دوران کہا کہ ’یہ ناممکن ہے کہ غیر ملکی سکیورٹی فورسز کو اپنی تیل کی تنصیبات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ دی جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ گیس فیلڈ سے دو دن کے اندر پیداوار دوبارہ شروع ہو جائے گی۔.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔