الجزائر: ’سینتیس غیر ملکی یرغمال ہلاک ہوئے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 14:59 GMT 19:59 PST

الجزائر کے وزیر اعظم عبدالملک سلال نے کہا ہے کہ امیناس گیس فیلڈ میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں 37 غیر ملکی یرغمال ہلاک ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد یرغمال بنائے گئے پانچ غیر ملکی اب بھی لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امیناس گیس فیلڈ پر حملہ کرنے والے شدت پسند بھاری ہتھیاروں سے لیس تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شدت پسندوں کا منصوبہ پوری گیس فیلڈ پر قبضہ کرنے کا تھا۔

الجزائر کے وزیر اعظم نے کہا کہ شدت پسند کا اس گیس فیلڈ پر قبضہ کر کے اڑانے کا منصوبہ تھا۔

عبدالملک نے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی تعریف کی۔

وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گیس فیلڈ پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں میں ایک کینیڈا کا شہری بھی تھا۔

امیناس گیس فیلڈ پر شدت پسندوں کے حملے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کُل 48 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں مقامی افراد بھی شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والوں اور لاپتہ افراد کا تعلق جاپان، ناروے، برطانیہ، امریکہ، رومانیہ، فلپائن اور ملائیشیا سے ہے۔

ان امیناس گیس فیلڈ پرگزشتہ بدھ کو درجنوں شدت پسندوں نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا اور وہاں کام کرنے والے سینکڑوں مقامی اور غیر ملکی افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

جمعرات سے الجزائر کی فوج کے خصوصی دستوں نے ان شدت پسندوں کے خلاف اس وقت کارروائی شروع کی تھی جب حکام کے مطابق انہوں نے یرغمالیوں کو ہلاک کرنا شروع کر دیا تھا۔

یہ کارروائی سنیچر کو مکمل ہوئی تھی جس کے بعد حکام نے آپریشن میں بتیس اغواکاروں اور تئیس یرغمالیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جبکہ متعدد یرغمالی لاپتہ تھے۔

الجزائر کے ایک نجی ٹی وی چینل انہار کے مطابق اب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کوگیس فیلڈ میں بارودی سرنگوں اور خفیہ جنگی رکاوٹوں کی تلاشی کے دوران مزید پچیس یر غمالیوں کی لاشیں ملی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو گیس فیلڈ پر حملے میں ملوث پانچ شدت پسندوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

موریطانیہ کی نیوز ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک ویڈیو میں الجزائر کے شدت پسند رہنما مختار بلمختار نے امیناس گیس فیلڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ صحارا میڈیا پر چلنے والی اس ویڈیو میں مختار نے مطالبہ کیا ہے کہ مالی میں غیر ملکی فوج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

انہوں نے القاعدہ سے تعلق رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ مختار گزشتہ سال تک مالی سے تعلق رکھنے والی شدت پسند تنظیم اے کیو آئی ایم (القاعدہ ان اسلامک مغرب) کے کمانڈر تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔