انسدادِ دہشتگردی کی نئی امریکی ’پلے بک‘

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 04:27 GMT 09:27 PST

سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملے جاری رکھنے کی عبوری اجازت کو وہ سمجھوتہ سمجھا جا رہا ہے جس کی بدولت اس دستاویز کی تیاری ممکن ہو سکی

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے انسدادِ دہشتگردی کا ایک مفصل مینوئل تیار کیا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں امریکی ٹارگٹ کلنگ آپریشنز کے قواعد و ضوابط طے کرنا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس مینوئل کو ’کاؤنٹر ٹیررازم پلے بک‘ کا نام دیا گیا ہے تاہم فی الحال اس میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے پاکستان میں کیے جانے والے ڈرون حملوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اخبار کے مطابق سی آئی اے کو مزید ایک برس تک القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی چھوٹ دی گئی ہے جس کے بعد ایجنسی پر بھی اس مینوئل میں دیے گئے سخت قوانین کا نفاذ ہوگا۔

محتاط اندازوں کے مطابق یہ دستاویز آئندہ چند ہفتوں میں صدر اوباما کو حتمی منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔

اس نئی پالیسی کا اہم ترین مقصد افغانستان سے امریکی انخلا کے وقت القاعدہ اور طالبان کو مزید کمزور کرنا ہے تاکہ وہ امریکا کے لیے مشکلات پیدا نہ کر سکیں۔

اس پلے بک میں جن معاملات پر بات کی گئی ہے ان میں ’کِل لسٹ‘ میں ناموں کا اندراج، غیرممالک میں امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کے قانونی اصول اور جنگی محاذ سے باہر سی آئی اے اور امریکی فوج کے ڈرون حملوں کے لیے پیشگی منظوری کا نظام بھی شامل ہے۔

’کِل لسٹ‘ وہ فہرست ہے جس میں ایسے افراد کے نام شامل ہیں جنہیں ہلاک کرنے کے لیے امریکی صدر کی اجازت سے دنیا بھر میں کہیں آپریشن کیے جا سکتے ہیں۔

اس نئی پالیسی کے تحت امریکی افواج اور خفیہ اداروں کودنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرنے کے لیے امریکی صدر کی اجازت درکار ہوگی۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ’پلے بک‘ کی تیاری کی کوششیں گزشتہ برس اس وقت ناکامی کے قریب پہنچ گئی تھیں جب امریکی محکمۂ خارجہ، سی آئی اے اور پینٹاگون کے درمیان ڈرون حملوں اور دیر معاملات پر اتفاقِ رائے نہیں ہو رہا تھا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملے جاری رکھنے کی عبوری اجازت کو وہ سمجھوتہ سمجھا جا رہا ہے جس کی بدولت اس دستاویز کی تیاری ممکن ہو سکی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔