بالی منشیات کیس میں سزائے موت کی مذمت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 22:08 GMT 03:08 PST

برطانیہ نے انڈونیشیا میں ایک برطانوی خاتون کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

چھپن سالہ لنڈسے سینڈی فورڈ کو مئی سال دو ہزار بارہ میں بالی کے ائر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے سوٹ کیس سے چار اعشاریہ آٹھ کلوگرام کوکین برآمد ہوئی تھی۔

عدالت سے سزائے موت کے بعد اب فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزا پر عمل کیا جائے گا۔

سینڈی فورڈ کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد نے ان کے ایک بچے کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دے کر انہیں منشیات ساتھ لیجانے پر مجبور کیا تھا۔

برطانیہ کے دفتر خارجہ کے وزیر ہوگو سوائر کا کہنا ہے کہ حکومت کو سزاء پر اعتراض ہے اور لنڈسے سینڈی فورڈ کے پاس سزاء کے خلاف اپیل کرنے کا اختیار موجود ہے۔

انہوں نے پارلیمان کو بتایا کہ’ ہم انتہائی سختی سے سزائے موت پر اعتراض کرتے ہیں اور اس مشکل وقت میں لنڈسے سینڈی فورڈ اور ان کے خاندان کو قونصل اسسٹنٹ فراہم کرتے رہے ہیں‘۔

ہوگو سوائرنے اراکین پارلیمان کو بتایا کہ انہوں نے کئی بار انڈونیشیا کے حکام کے سامنے یہ معاملہ رکھا ہے اور وزیر خارجہ ویلیم ہیگ نے بھی انڈونیشیا کے ہم منصب کے سامنے اس کیس کو اٹھایا ہے۔

دفتر خارجہ کے وزیر ہوگو سوائر کے بقول انہیں معلوم ہے کہ انڈونیشیا میں اس سزاء کے خلاف عدالت میں اپیل کرنے کے دو راستے موجود ہیں اور اگر ان میں ناکامی ہوتی ہے تو اس کے علاوہ سینڈی فورڈ صدر سے رحم کی اپیل بھی کر سکتی ہیں۔

سینڈی فورڈ کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہیں عدالتی فیصلے پر حیرانگی ہوئی ہے کیونکہ استغاثہ نے پندرہ سال قید کی درخواست کی تھی اور وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

جج نے انہیں سزا سناتے ہوئے کہا تھا کہ تھا کہ سینڈی فورڈ کے اقدام سے بالی کی سیاحتی مقام کے حوالے سے ساکھ متاثر ہوئی ہے اور حکومت کی انسدادِ منشیات کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

انڈونیشیا میں منشیات کے حوالے سے انتہائی سخت قوانین ہیں تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سزاء پر عمل درآمد مشکل سے ہی ہو پاتا ہے۔

آسٹریلیا کے لوئے انسٹیٹیوٹ برائے بین الاقوامی پالیسی کے مطابق اس وقت انڈونیشیا میں چالیس غیر ملکی شہریوں کو منشیات کی تجارت کے جرم میں سزائے موت کا سامنا ہے۔

ادارے کے مطابق سنہ انیس سو اٹھانوے سے اب تک پانچ غیر ملکیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد ہو چکا ہے جبکہ سال دو ہزار آٹھ کے بعد کسی بھی غیر ملکی کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت بیرون ملک بارہ برطانوی شہریوں کو سزائے موت کا سامنا ہے جب کہ پچپن الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں بھی ممکنہ طور پر سزائے موت ہو گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔