اسرائیل میں عام انتخابات، ووٹنگ جاری

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 05:34 GMT 10:34 PST

اسرائیلی انتخابات کے نتیجے میں مبصرین توقع کر رہے ہیں کہ نتن یاہو ایک دائیں بازو کی مخلوط حکومت بنائیں گے

اسرائیل میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے اور انتخابی جائزوں کے مطابق اس مرتبہ بھی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اقتدار سنبھال سکتے ہیں لیکن ان کی جماعت کو ماضی جیسی اکثریت نہیں مل سکے گی۔

یروشلم میں انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ انتخابات میں مقابلہ ان جماعتوں کا ہے جن کے انتخاب کے نتیجے میں ’ایک منقسم اور کمزور اسرائیل یا ایک متحد اور مضبوط اسرائیل‘ سامنے آئے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان عام انتخابات کے بعد نتن یاہو ایک دائیں بازو کی مخلوط حکومت بنانے کے کوشش کریں گے۔

اس مرتبہ فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات اسرائیل کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے انتخابی ایجنڈے پر نہیں اور سماجی اور معاشی مسائل ووٹروں کی توجہ کا مرکز ہیں جس کے بارے میں وہ نمایاں طور پر فکر مند ہیں۔

رائے دہندگان کے ایک آخری جائزے کے مطابق نتن یاہو اپنی حلیف جماعت لیکود کے ساتھ انتخابات میں کامیابی تو حاصل کر لیں گے مگر ان کے پاس گزشتہ پارلیمان کی نسبت بتیس نشستیں کم ہوں گی۔ اس کے باوجود وہ دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ایک مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

"مجھے بہتر لگ رہا ہے اور میں آخری لمحات میں ہر ایک شہری سے اپیل کروں گا جو ووٹ ڈالنے جا رہا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کس کے لیے ووٹ دیں گے، ایک منقسم اور کمزور اسرائیل یا ایک متحد اور مضبوط اسرائیل اور ایک بڑی اکثریت والی جماعت کو۔"

بن یامین نتن یاہو

یہ دائیں بازو کا بلاگ نتن یاہو کو ایک سو بیس ممبران پر مشتمل اسرائیلی پارلیمان ’کنیسا‘ میں تریسٹھ نشستوں کی حمایت دے سکے گا۔

نتن یاہو نے بجٹ پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے وقت سے پہلے انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔

اب تک کے رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی مشترکہ جماعتوں کے اتحاد کو برتری حاصل رہی ہے مگر حال ہی میں ان کی حمایت میں کمی ایک قوم پرستانہ رجحانات رکھنے والی جماعت ’بیت یہودی‘ کی وجہ سے دیکھی گئی ہے۔

اپنے آخری انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ آخری دنوں میں حمایت میں ہونے والے اضافے سے بہت پراعتماد محسوس کر رہے ہیں۔ مجھے بہتر لگ رہا ہے اور میں آخری لمحات میں ہر ایک شہری سے اپیل کروں گا جو ووٹ ڈالنے جا رہا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کس کے لیے ووٹ دیں گے، ایک منقسم اور کمزور اسرائیل یا ایک متحد اور مضبوط اسرائیل اور ایک بڑی اکثریت والی جماعت کو۔‘

’لیکود اور یسرائیل بیتِ نو‘ کے دائیں بازو کی برتری کو ’بیت یہودی‘ نامی جماعت نے چیلنج کیا ہے جس کی سربراہی ایک امیر اسرائیل کارباری شخصیت نفتالی بینیٹ کر رہے ہیں جو کہ نتن یاہو کہ سابق چیف آف سٹاف رہ چکے ہیں۔

’لیکود اور یسرائیل بیتِ نو‘ کے دائیں بازو کی برتری کو ’بیت یہودی‘ نامی جماعت نے چیلنج کیا ہے

بینٹ نے مغربی کنارے کے بڑے حصوں پر قبضہ کرنے اور انہیں اسرائیل کے ساتھ ملانے کے نظریے اور اسرائیل فلسطینی تنازعے ک حل کے لیے دو ریاستی نظریے کی مخالفت کی ترویج کی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ بیت یہودی کنیسا میں چودہ نشستیں حاصل کر کے تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھرے گی جبکہ دوسری بڑی جماعت لیبر ہو گی جس کے پاس اس وقت آٹھ نشستیں ہیں لیکن اس بات کا عندیہ دیا جا رہا ہے کہ لیبر انتخابات میں دوبارہ سیاست میں واپس آئے گی جس کی بڑی وجہ لوگوں میں ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پایا جانے والا شدید غم و غصہ ہے۔

لیبر جماعت کی شیلی یاچمو وِچ نے نیتن یاہو کے ساتھ اتحاد کو پہلے ہی خارج از امکان قرار دیا ہے۔

ایک نئی سیکولر جماعت ’یاش آتِد‘ جس کے سربراہ ایک ٹی وی کی معروف شخصیت یائیر لاپِد کر رہے ہیں اور متوسط مزاج رکھنے والی سابق وزیر خارجہ زپی لیونی کی ’ہیتینوا‘ جماعت بھی انتخابات میں بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو گی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ نتن یاہو کی مخلوط حکومت میں شمولیت پر غور کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔