دنیا بھر میں بےروزگاری میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 03:57 GMT 08:57 PST

دنیا بھر میں بے روگار افراد کی تعداد میں دو ہزار بارہ کے دوران چالیس لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے ’یو این لیبر ایجنسی‘ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں بےروزگار افراد کی تعداد میں دو ہزار بارہ کے دوران چالیس لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

یو این لیبر ایجنسی کے مطابق چالیس لاکھ کے اضافے کے ساتھ یہ تعداد اب ایک سو ستانوے ملین ہو چکی ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ نوجوانوں کا ہے جن میں چوبیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں میں سے تیرہ فیصد بےروزگار ہیں۔

آئی ایل او کا کہنا ہے اس تعداد میں سالِ رواں میں اکیاون لاکھ جبکہ دو ہزار چودہ میں تیس لاکھ کا اضافہ متوقع ہے جو کہ عالمی معیشت میں گراوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ معاملہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں دیکھا گیا ہے۔

’گلوبل ایمپلائمنٹ ٹرینڈز‘ یعنی دنیا میں ملازمتوں میں رجحانات نامی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے دنیا بھر میں کام کرنے والے افراد میں سے چھ فیصد دو ہزار بارہ کے دوران بےروزگار تھے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں لمبی مدت کی بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جس میں یورپ کے بے روزگاروں میں سے ایک تہائی ایسے لوگ ہیں جو گزشتہ ایک سال سے بےروزگار ہیں۔

"ایک غیر یقینی معاشی منظرنامے اور اس سے نمٹنے کے لیے موثر اور معین پالیسی کے فقدان نے طلب میں کمی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کے ساتھ ملازمتوں میں کمی بھی پیدا کی ہے۔"

آئی ایل او کے ڈائرکٹر جنرل گائے رائڈر

اسی طرح بہت بڑی تعداد میں لوگ کام کی تلاش کا سلسلہ ختم کر رہے ہیں جبکہ لیبر مارکیٹ یا کام کرنے والے افراد کی درجہ بندی سے انتالیس ملین افراد کم ہوئے ہیں۔

آئی ایل او کے ڈائرکٹر جنرل گائے رائڈر نے کہا کہ ’ایک غیر یقینی معاشی منظرنامے اور اس سے نمٹنے کے لیے موثر اور معین پالیسی کے فقدان نے طلب میں کمی اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کے ساتھ ملازمتوں میں کمی بھی پیدا کی ہے۔‘

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے نوجوانوں کے لیے فنی تربیت کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان ایسی ملازمتیں کرنے کے قابل بن سکیں جو میسر ہیں۔

گائے رائڈر نے کہا کہ ’یہ نوجوانوں کی زندگیوں اور ان کے ٹیلنٹ کا بہت بڑا زیاں ہے اور لوگوں اور ان کے معاشروں کے لیے تباہی کا باعث ہے‘۔

اسی رپورٹ کے مطابق جن ممالک نے ’ایپرنٹس شپ‘ یا نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے حصول کے لیے فنی تربیت کے پروگراموں کو جاری رکھا ہے ان میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بہت کم ہے جیسا کہ جرمنی، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔