یہودی بستیاں، فلسطین کی اسرائیل کو دھمکی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 01:51 GMT 06:51 PST

مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی عالمی برادری متعدد بار مذمت کی چکی ہے

فلسطین نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ مشرقی یروشلم میں یہودی آباد کاروں کے لیے نئے مکانات تعمیر کیے جانے کی صورت میں وہ اس کے خلاف جرائم کی عالمی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کرے گا۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں فلسطین کے وزیر خارجہ ریاد مالکی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کا دارومدار نئی اسرائیل حکومت پر ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دیا گیا تھا اور اس کے بعد سے فلسطین جرائم کی عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا اہل ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس فیلصے کے فوری بعد درعمل کے طور پر اسرائیل نے غرب اردن اور مشرقی یروشلم کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے پندرہ سو رہائش گاہوں تعمیر کرنے کے متنازع منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

بدھ کو فلسطین کے وزیر خارجہ ریاد مالکی نے سکیورٹی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل نے ’ای ون‘ نامی علاقے میں نئی آبادی تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس علاقے میں یہودیوں کو آباد کرنا سرخ لکیر کو عبور کرنے کے متراف ہو گا اور فلسطین جرائم کی عالمی عدالت میں جانے پر مجبور ہو جائے گا۔

انہوں نے سکیورٹی کونسل کو بتایا ’اسرائیل ای ون منصوبے پر عمل درآمد اور پھر یروشلم کے اطراف میں نئی منصوبوں پر عمل کرنے کے لیے مزید آگے جانا چاہے گا اور پھر ہم بین لاقوامی عدالت میں جائیں گے‘۔

اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگارباربرا پلٹ کے مطابق اسرائیل کے ساتھ اس تنازع کو جرائم کی عالمی عدالت میں لے جانا ایک راستہ ہے لیکن یہ غیر معمولی طور پر ایک براہ راست دھمکی ہے۔

اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی رابرٹ سیری نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے اور امن کی راہ میں بڑھتی ہوئی رکاوٹ ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطین کی جانب سے اس مسئلے کو کسی بین الاقوامی فورم میں لے جانے کی صورت میں امن بات چیت میں واپسی مزید مشکل ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم سمیت غربِ اردن پر سنہ انیس سو سڑسٹھ سے قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں ایک سو کے قریب بستیوں میں پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ یہ بستیوں عالمی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔