مصر: انقلاب کی دوسری سالگرہ پر مظاہرے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 25 جنوری 2013 ,‭ 05:58 GMT 10:58 PST

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے تحریر سکوائر میں انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مصر کے صدر محمد مرسی کے مخالفین نے تحریر سکوائر پر ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا تھا۔

مخالفین صدر مرسی پر دھوکا دہی کا الزام عائد کرتے ہیں جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

دوسری جانب مصری صدر نے اپنے ایک پیغام میں قوم سے استدعا کی کہ وہ انقلاب کے دن کو پرامن طریقے سے منائیں۔

جمعرات کی شام پولیس اور مظاہرین میں مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب مظاہرین نے تحریر سکوائر کی جانب جانے والی سٹرک سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی۔

مصر کے صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین نے انقلاب کے دن کو منانے کے لیے سرکاری طور پر ریلیاں نکالنے کا اعلان نہیں کیا۔

اخوان المسلمین ملک میں انقلاب کے دن کو خیراتی کام شروع کر منانا چاہتی ہے۔

مصر کی حزب مخالف جماعت کو امید ہے کہ صدر مرسی کے خلاف تحریر سکوائر میں جمعے کو ہونے والے مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔

مصر کی حکومت پر ملک میں اقتصادی بحران کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی نگراں جوہری ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادی نے ٹوئٹر پر مصر کے انقلاب کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے لوگوں سے تحریر سکوائر میں جمع ہونے کی اپیل کی ہے۔

مصر کے دوسرے شہروں میں بھی اسی طرح کے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے گزشتہ ماہ خود کو وسیع اختیارات دینے کے بعد ملک کے نئے متنازع آئین پر ریفرنڈم کروایا تھا جس سے ملک میں سیاسی تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

مصری عدلیہ کے بہت سے ججوں نے اس ریفرنڈم کی نگرانی سے انکار کیا تھا جس میں تریسٹھ فیصد رائے دہندگان نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا تاہم ووٹنگ کی شرح تینتیس فیصد کے لگ بھگ رہی تھی۔

اس آئین کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ اپنے کردار میں بہت زیادہ اسلام پسند ہے اور اس میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ نہیں دیا گیا۔

مصر کے صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت نے حزب مخالف کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حزب مخالف کو مزاکرات کی دعوت دی تھی۔

واضح رہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار سے علیحدہ ہوئے دو برس مکمل ہو گئے ہیں۔

دو برس پہلے آج ہی کے دن مصر کے سابق صدر کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے جس کے بعد انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔حسنی مبارک کو اپنی حکومت کے آٹھ سو پچاس مخالف مظاہرین کی اموات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

چوراسی سالہ حسنی مبارک کو سنہ دو ہزار گیارہ میں دارالحکومت قاہرہ اور دیگر شہروں میں وسیع احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا اور جون میں انہیں قید کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔