امریکہ: اسلحہ پر کنٹرول کے لیے ریلی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 27 جنوری 2013 ,‭ 02:00 GMT 07:00 PST

یہ ریلی کیپیٹل سے یادگارِ واشنگٹن تک نکالی گئی

امریکہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ملک میں اسلحہ پر کنٹرول بڑھانے کے لیے کیپیٹل سے یادگارِ واشنگٹن تک ریلی نکالی۔

اس ریلی میں کنیٹی کٹ، نیو ٹاؤن کے رہائشی بھی شامل تھے۔ نیوٹاؤن میں ایک سکول کے اندر فائرنگ کے واقعے نے ملک میں سکیورٹی اور اسلحہ پر کنٹرول کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی تھی۔

ریلی کے شرکاء نے بینرز اٹھائے تھے جن پر گولی سے ہلاک ہونے والے افراد کے نام درج تھے اور ’اب اسلحہ پر کنٹرول‘ جیسے نعرے لکھے گئے تھے۔

ریلی سے خطاب کے دوران مقررین نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اسلحہ پر کنٹرول کے لیے سیاستدانوں کو قائل کریں۔

سیکرٹری تعلیم ارنی ڈنکن نے کہا کہ جب وہ شکاگو کے سرکاری سکولوں کے سربراہ تھے تو دو ہفتوں میں ایک بچہ اسلحہ کی وجہ سے ہلاک ہوتا تھا۔

لیکن انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ اسلحہ پر کنٹرول کا مطلب آتشی اسلحہ رکھنے کے حق کو جس کی آئین میں گارنٹی ہے محدود کرنا ہے۔

"اس کا مقصد ذمہ داری کے ساتھ اسلحہ رکھنا ہے۔ یہ اسلحہ سے تحفظ کے بارے میں ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ کم امریکی ہلاک ہوں، کم بچے ہلاک ہوں اور کم بچے خوف میں رہیں"

سیکرٹری تعلیم ارنی ڈنکن

انہوں نے کہا کہ ’اس کا مقصد ذمہ داری کے ساتھ اسلحہ رکھنا ہے۔ یہ اسلحہ سے تحفظ کے بارے میں ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ کم امریکی ہلاک ہوں، کم بچے ہلاک ہوں اور کم بچے خوف میں رہیں۔‘

وکلاء اور ہالی ووڈ کے اداکاروں جیسے کیتھلین ٹرنر کے ساتھ مل کر مقررین نے صدر براک اوباما کے فوجی طرز کے خودکار اسلحہ اور میگزین پر پابندی اور اسلحہ خریداری کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے مطالبے کی حمایت کی۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی سکولوں کو یونیفام میں پولیس کی خدمات حاصل کرنے کے لیے فنڈز دینے کی تجویز دی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔