’اسرائیل کا شام میں ریسرچ سینٹر پر حملہ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 23:44 GMT 04:44 PST

یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی اسرائیل نے اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم ملک کے شمالی حصے میں نصب کیا ہے

شام کی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی جیٹ طیاروں نے شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دمشق کے قریب واقع عسکری ریسرچ سینٹر پر بمباری کی ہے۔

شامی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اس حملے کا ہدف دارالحکومت کے شمال مغرب میں واقع عسکری ریسرچ سینٹر تھا۔

شام کی فوج نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے اس قافلے پر حملہ کیا ہے جو لبنان اسلحہ لے کر جا رہا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب لبنان کے سکیورٹی ذرائع، مغربی سفارتکار اور شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے اس قافلے کو نشانہ بنایا ہے جو اسلحہ لبنان لے کر جا رہا تھا۔

یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسرائیل نے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے کہ شام کے میزائل اور کیمیائی ہتھیار لبنان کے حزب اللہ کے ہاتھوں میں آ سکتے ہیں۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم کچھ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شام میں بحران کے باعث اسرائیلی حملے سے تعجب نہیں ہو گا۔

حملے کی خبر کے بارے میں اسرائیل اور امریکہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

لبنان کی فوج اور سکیورٹی فورسز نے اس حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی جنگی جہازوں کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔

شام کی فوج نے بیان میں کہا ہے ’اسرائیلی جنگی جہازوں نے بدھ کی صبح شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریسرچ سینٹر کو نشانہ بنایا۔ یہ سینٹر شام کی قوتِ مزحمت اور دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا تھا۔‘

شام کی فوج کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جس سینٹر پر حملہ کیا گیا اس پر باغیوں نے قبضہ کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن ناکام رہے۔

بیان میں اس خبر کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ کسی قافلے پر حملہ کیا گیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام کی اندر اسرائیل کی جانب سے حملہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ شام پر اسرائیلی حملے کو ایران پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی اسرائیل نے اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم ملک کے شمالی حصے میں نصب کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ شام کو روس کی جانب سے ایس اے 17 میزایل ملے تھے۔ یہ میزایل اس وقت ملے جب سنہ 2007 میں اسرائیلی حملے میں شام کا ایٹمی ری ایکٹر تباہ ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔