شام کا تنازع ہولناکی کی نئی مثال: ابراہیمی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 04:56 GMT 09:56 PST

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ شام کا تنازع ہولناکی کی اس سطح تک پہنچ گیا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

اخضر ابراہیمی نے کہا کہ شام کو آہستہ آہستہ تباہ کیا جا رہا ہے۔

سفارت کاروں کے مطابق انہوں نے پندرہ ارکان پر مشتمل کونسل کو بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے دوران بتایا کہ’ ہولناکی بےمثال حد تک پہنچ گئی ہے اور اس سانحے کا کوئی اختتام نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ملک سب کی آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ہو رہا ہے۔ صرف بین الاقوامی برادری مدد کر سکتی ہے اور خاص کر سکیورٹی کونسل۔‘

بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اخضر ابراہیمی نے کہا کہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف آپس کی لڑائی میں شام کو ’ٹکڑوں، ٹکڑوں‘ میں تباہ کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل پر شام کے حوالے سے اتفاقِ رائے قائم کرنے اور کارروائی کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’خطے کو انتہائی خراب صورتِ حال میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ سکیورٹی کونسل مزید یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمیں اتفاق نہیں لہٰذا اچھے وقتوں کا انتظار کرنا چاہیے۔میں سمجھتاہوں اب انہیں اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔‘

"خطے کو انتہائی خراب صورتِ حال میں دھکیل دیا گیا ہے۔اس لیے میرا خیال ہے کہ سکیورٹی کونسل مزید یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں اتفاق نہیں لہٰذا اچھے وقتوں کا انتظار کرنا چاہیے۔میں سمجھتاہوں اب انہیں اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا"

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی

ان کا اشارہ سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان اس بات پر پائے جانے والے اختلاف رائے کی جانب تھا کہ آیا شامی صدر بشار الاسد کو اقتدار کی منتقلی میں کوئی کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں۔

اقوام متحدہ میں ہماری نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق اخضر ابراہیمی نے شام کی صورتِ حال کے حوالے سے واضح تجزیہ دیا جس سے ان کی سکیورٹی کونسل میں پیدا ہونے والے تعطل سے مایوسی ظاہر ہو رہی تھی۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی اس اپیل سے گھنٹوں پہلے شامی شہر حلب میں درجنوں مردہ افراد کی لاشیں ملیں۔ شامی حکومت اور حزب اختلاف نے ان ہلاکتوں کا الزام ایک دوسرے پر لگایا ہے۔

حزب اختلاف کے کارکنوں کے مطابق باغیوں کے کنٹرول والے ضلع بستان القصر میں ایک دریا کے کنارے کم از کم 71 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

اخضر ابراہیمی نے کہا کہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف اپس کی لڑائی میں شام کو ’ٹکڑوں، ٹکڑوں‘ میں تباہ کر رہے ہیں

واضح رہے کہ اخصر ابراہیمی جون 2012 میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں منظور شدہ امن منصوبے کے تحت شام میں کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔جبکہ اقوام متحدہ کا سکیورٹی کونسل شام کے حوالے سے مہنیوں سے منقسم ہے۔

امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور دوسرے مغربی ممالک شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف پابندیوں کی دھمکیاں دینے والے قراردادیں پیش کرتے ہیں۔ تاہم روس اور چین نے تین دفعہ اس قسم کی قراردادیں اپنی ویٹو پاور کے ذریعے مسترد کی ہیں۔ جبکہ روس نے جو شام کا قریبی اتحادی ہے بشارالاسد کو حکومت سے علیحدہ ہونے کے مطالبات کی حمایت سے بھی انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔