مالی: اہم قصبے پر قبضہ، کارروائی کا پہلا مرحلہ ختم

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 05:02 GMT 10:02 PST

کدال پر کنٹرول کرنے سے چند روز پہلے فرانسیسی اور مالی افواج نے گاؤ اور ٹمبکٹو پر مالی سرکار کی عملداری قائم کی تھی

مالی میں فوجی حکام کے مطابق فرانسیسی افواج نے شدت پسندوں کے آخری گڑھ شمالی مالی کے قصبے کدال پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کے ساتھ فوجی کارروائی کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے۔

اسلامی شدت پسند پہلے ہی الجیریا کی سرحد پر واقع اس قصبے سے نکل گئے تھے اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ قریبی پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں۔

کدال کے مقامی اسمبلی کے سربراہ ہامینائے مایگا کے مطابق فرانسیسی افواج کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ’فرانسیسی چار جہازوں میں آئے۔ انہوں نے ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا اور پھر بغیر کسی لڑائی کے قصبے میں داخل ہوگئے۔فرانسیسی افواج اب قصبے میں گشت کر رہی ہیں جبکہ دو ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کر رہے ہیں۔‘

اس سے پہلے فرانس کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ ریت کے طوفان کی وجہ سے فوج کو ایئرپورٹ سے نکلنے میں تاخیر ہوئی۔

ٹمبکٹو میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹامس فیسی کا کہنا ہے کہ کدال پر قبضے کے ساتھ ہی شمالی مالی میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف عسکری کارروائی کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا ہے۔

"فرانسیسی چار جہازوں میں آئے۔ انہوں نے ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا اور پھر بغیر کسی لڑائی کے قصبے میں داخل ہوگئے۔فرانسیسی افواج اب قصبے میں گشت کر رہے ہیں جبکہ دو ہیلی کاپٹرز فضائی نگرانی کر رہے ہیں"

کدال کے مقامی اسمبلی کے سربراہ ہامینائے مایگا

کدال پر کنٹرول حاصل کرنے سے چند ہی روز پہلے فرانسیسی اور مالی افواج نے گاؤ اور ٹمبکٹو کو شدت پسندوں کے قبضے سے آزاد کرا کے وہاں پر مالی سرکار کی عملداری قائم کی تھی۔

اسلامی شدت پسندوں نے گذشتہ مارچ میں مالی میں فوجی بغاوت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کے شمالی علاقوں میں شہروں پر قبضہ کر کے وہاں پر اسلامی شریعی نظام نافذ کیا تھا۔

جب شدت پسند ملک کے جنوبی علاقوں کے لیے خطرے بن گئے تو فرانس نے اس مہینے ان کے خلاف عسکری کارروائی کا آغاز کیا۔ فرانس مالی میں حکمراں رہ چکا ہے۔

توقع ہے کہ فرانس اب افریقی یونین کی افواج مالی میں تعیناتی کے بعد شدت پسندوں کے خلاف دوسرے مرحلے میں القاعدہ سے منسلک جہادیوں کا ان کے صحرائی ٹھکانے تک پیچھا کرے۔

فرانس کے وزیرِ ِخارجہ لارین فابیس نے بدھ کو کہا کہ فرانس مالی سے جلد از جلد نکلنا چاہتا ہے اور یہ اب افریقی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ مالی میں حالات کو کنٹرول کرے۔

اگست 2012 میں کدال ایئرپورٹ جو اس وقت انصار داعین کے قبضے میں تھا

مالی میں نائجر اور چاڈ سمیت کئی مغربی افریقی ممالک کے سینکڑوں فوجی پہلے ہی سے موجود ہیں۔

دریں اثنا یورپی یونین کے وزرائے خارجہ جمعرات کو ملاقات کر رہے جس میں امکان ہے کہ وہ مالی میں آئندہ ای یو کی طرف سے شروع ہونے والی ٹرینینگ مشنز کو عملی شکل دینے پر بات چیت کرے۔

یاد رہے کہ ایتھیوپیا میں عطیہ دینے والوں کی بین الاقوامی کانفرنس نے منگل کو مالی میں اسلامی شدت پسندوں سے نمٹنے کی عالمی مہم کے لیے 455 ملین ڈالر دینے کا عہد کیا تھا۔جب کہ افریقی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے لیے بجٹ 950 ملین امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ مالی میں صاف و شفاف انتخابات قیامِ امن کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔

مالی کے نگران صدر ڈیوکونڈا تراور نے منگل کو کہا تھا کہ وہ ملک میں 31 جولائی تک صاف و شفاف انتخابات کرانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔