اسرائیلی ’حملے‘ پر شام کی شکایت، امریکہ کی تنبیہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 16:38 GMT 21:38 PST
شام

شام میں جاری جنگ میں اب تک ساٹھ ہزار سے ذائد افراد کے ہلاک ہو نے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی حکام نے شامی علاقے میں اسرائیل کے جنگی طیاروں کی کارروائی کی تصدیق کر دی ہے جبکہ شام نے اس حملے کے بارے میں اقوامِ متحدہ سے شکایت کی ہے۔

حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے بدھ کو شام میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے روسی میزائل لے جانے والے ایک قافلے کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ روسی ساختہ ایس اے سترہ میزائل تھے اور خیال ہے کہ اس قافلے کی منزل لبنان میں شدت پسندگروپ حزب اللہ کے ٹھکانے تھے۔

شام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی جہازوں نے دمشق کے شمال مغرب میں جمرایہ فوجی ریسرچ سینٹر کو نشانہ بنایا۔فوج نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس حملے میں اسلحہ لے کر لبنان جانے والی لاریوں کو نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے شام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کو ہتھیار نہ بھیجے۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے نائب مشیر بین رہوڈز نے اسرائیل کی جانب سے حملے کی تصدیق نہیں کی لیکن شام کو متنبہ کیا کہ حزب اللہ کو ہتھیار نہ بھیجے۔

’شام حزب اللہ کو ہتپیار بھیج کر خطے کو مزید غیر مستحکم نہ کرے۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس حملے پر تشویش نہ ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فضائی کارروائی سے پہلے ہی اسے مطلع کیا جا چکا تھا۔

دوسری جانب سے شام میں وزارتِ خارجہ نے جولان میں اقوامِ متحدہ کے کمانڈر کو طلب کر کے اسرائیلی حملے پر باقاعدہ شکایت کی ہے۔ شامی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان 1974 کے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔

روس اور ایران نے بھی اس حملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

روس نے اسرائیل کی جانب سے شام پر مبینہ حملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے حملے ناقابِل قبول ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہیں۔

روس نے گزشتہ بائیس ماہ سے جاری اس جنگ کے دوران شام کے صدر بشارالاسد پر تنقید سےگریز کیا ہے جس میں ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ اطلاع درست ثابت ہوتی ہے تو یہ کسی خودمختار ملک کی سرزمین پر بِلا اشتعال حملے ہیں جو ناقابِل قبول ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں خواہ ان حملوں کی کوئی بھی وجہ ہو‘۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روس اور اسرائیل کے درمیان حالیہ برسوں میں تجارت اور اقتصادی تعلقات میں بہتری آئی ہے تاہم ماسکو شام کے صدر کا قریبی اتحادی ہے۔

اسرائیل نے حال ہی میں ایسے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ شام کے میزائل اور کیمیاوی ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں خاص طور پر لبنان میں شیعہ شدت پسند گروپ حزب اللہ انہیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خدشہ ہے کہ حزب اللہ طیارے اور توپ شکن میزائل حاصل کر سکتی ہے جس سے وہ اسرائیل کے فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کا اہل ہو جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔