ہلری کلنٹن: طویل سفر کا خاتمہ یا ایک نئی شروعات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 14:05 GMT 19:05 PST
ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن کے بارے میں صدر اوباما کہہ چکے ہیں کہ ان کا شمار ملک کے بہترین وزراء خارجہ میں ہوگا

گزشتہ کئی عشروں کے دوران ہلری کلنٹن نے ایک طالبعلم کارکن سے امریکہ کی وزیرِ خارجہ تک کا سفر طے کیا اور اب جب کہ انہوں نے یہ عہدہ دوبارہ سنبھالنے سے انکار کر دیا ہے اور سوال اٹھتا ہے کہ یہ ان کے سیاسی سفر کا اختتام ہے یا ابھی کچھ آنا باقی ہے؟

ہلری کلنٹن انیس سو بانوے میں اپنے خاوند بل کلنٹن کے امریکی صدر بننے کے بعد امریکی خاتون اول کے طور پر عالمی افق پر نمودار ہوئیں اور اس وقت سے وہ امریکی عوام کی پسندیدہ خواتین میں شامل رہی ہیں۔

امریکی عوام گیلپ پول میں مسلسل سترہ برس سے انہیں دنیا کی سب سے پسندیدہ خاتون کا خطاب دیتے آئے ہیں۔

ہلری کلنٹن ایک ایسے وقت میں امریکی وزارتِ خارجہ چھوڑ رہی ہیں جب ستّر فیصد عوام انہیں وہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ شرح کولن پاول کے سوا انیس سو اڑتالیس سے اب تک امریکی وزرائے خارجہ میں سب سے زیادہ ہے۔

صدر اوباما ہلری کلنٹن کے بارے میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کا شمار امریکہ کے بہترین وزرائے خارجہ میں کیا جائےگا۔

سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ہلری کلنٹن صدارتی عہدے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار تھیں تاہم اوباما نے انہیں پارٹی انتخاب میں شکست دی تھی اور صدر بننے کے بعد انہیں اپنی کابینہ میں وزيرِ خارجہ کا عہدہ دیا تھا۔

سی بی ایس ٹی وی چینل پر ایک مشترکہ انٹریو میں انہوں نے ہلری کلنٹن کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے بطور امریکی وزیر خارجہ ’انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہلری کلنٹن کی سوچ، توانائی اور کام کرنے کے طریقۂ کار کے قائل ہیں۔

ہلری کلنٹن لبرل خیالات کے حامی افراد کی آنکھ کا تارا رہی ہیں۔جب 2008 میں انہوں نے امریکی صدر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امیدواری کا دعویٰ پیش کیا تھا تو وہ ہی ڈیموکریٹک پارٹی کی پہلی پسند تھیں۔

ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کالج کے دنوں سے کیا تھا

واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر جان ہوروز کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 کی انتخابی مہم کے دوران ہلری کلنٹن پہلی خاتون امیدوار تھیں جن بارے میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ وہ صدر کے عہدے کے لائق ہیں۔ ’اس مہم کے دوران ان کے صلاح کاروں کو یہ لگتا تھا کہ انہيں ہمیشہ عوام کے سامنے اپنی ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے اور یہ نہیں دکھانا ہے کہ وہ بھی ایک ماں ہیں اور شفقت کا جذبہ رکھتی ہیں لیکن آخر میں یہ حکمت عملی کام نہیں آئی۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہلری کلنٹن کی شبیہ ایک بے باک، مضبوط ارادے والی خاتون کی بن گئی ہے۔

یہ بات صحیح ہے کہ ہلری کلنٹن کے مداحوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ان لوگوں کی بھی کمی نہیں جو انہیں ناپسند کرتے ہیں یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہلری کلنٹن آسانی سے سمجھوتا نہیں کرتی اور پھوٹ ڈالتی ہیں۔

جب وہ امریکہ کی خاتون اول تھیں تو ان کے ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ بےحد سیاسی رویہ رکھتی ہیں اور جھگڑا کرنے سےگریز نہیں کرتیں۔

ہلری کلنٹن نے بطور وزیرِ خارجہ پوری دنیا میں امریکہ کے کردار کو وسیع کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

امریکہ میں جارج بش کے اقتدار کے خاتمے کے بعد عراق اور افغانستان میں جنگ جاری تھی اور جب صدر اوباما کی انتظامیہ پر بڑی ذمہ داری تھی کہ امریکہ کی شبیہ کو بہتر بنایا جائے اور اس کا سپر پاور کا خطاب برقرار رہے۔

ہلیری کلنٹن کا سفر

  • 1947: شکاگو میں پیدائش
  • 1973: یئل لاء سکول سے گریجویشن
  • 1974: آرکنساس منتقل ہوگئیں
  • 1975: بل کلنٹن سے شادی
  • 1977: صدر جمی کارٹر کی جانب سے لیگل سروسز کارپوریشن بورڈ میں تعیناتی
  • 1992: امریکہ کی خاتون اول بن گئیں
  • 2000: نیویارک سے امریکی سینیٹ کی رکن بنیں
  • 2006: بطور سینیٹر دوبارہ منتخب ہوئیں
  • 2007: عہدۂ صدارت کے لیے ڈیموکریٹ نامزدگی کی مہم
  • 2008: امریکی وزیرِ خارجہ نامزد ہوئیں
  • 2012: وزارتِ خارجہ چھوڑنے کا اعلان

اوباما اتنظامیہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی سمت بدلنا چاہتی تھیں اور ہلری کلنٹن چاہتی تھیں وہ ہر ملک میں براہ راست لوگوں سے رابطہ قائم کریں اور اپنے ملک کی شبیہ بہتر بنائیں۔

ہلری کلنٹن کے لیے یہ کام برطانیہ جیسے ملک میں کرنا آسان تھا لیکن پاکستان جیسے ملک میں بے حد مشکل۔ وہ پہلی بار امریکہ کی خاتون اول کی حیثیت سے وہاں گئی تھی لیکن 2009 میں وہاں وزیر خارجہ کی حیثیت سے گئیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ’میں لوگوں کی ذہنیت بدلنے کی کوشش کرنے سے ہار نہیں ماننے والی ہوں۔‘

ہلری نے اپنے دور میں خواتین کے حقوق کو ترجیح دی اور سفارتی اور فوجی رشتوں اور سیاسی اتحادیوں کے درمیان ایک نازک توازن پیدا کیا اور آنگ سان سوچی جیسے سیاستدانوں کی حمایت حاصل کی۔

محترمہ کلنٹن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ سنہ دو ہزار سولہ کے صدارتی انتخابات میں وہ صدر کے عہدے کی اہم دعویدار ہوں گی۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ محترمہ کلنٹن نے سیاست سے بریک نہیں لیا ہے بلکہ وہ امریکہ کی سیاست میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کی تیاری کرنا چاہتی ہیں جس کے لیے انہیں وقت چاہیے اور یہ وقت انہیں ملک کی وزیر خارجہ ہوتے ہوئے ملنا ناممکن تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔