میکسیکو: تیل کمپنی کے دفتر میں دھماکا، 25 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 08:44 GMT 13:44 PST

صدر نے دھماکے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے

میکسیکو کے وزیرِ داخلہ کے مطابق دارالحکومت میکسیکو سٹی میں واقع تیل کی سرکاری کمپنی پیمیکس کے ہیڈکوارٹر میں جمعرات کو ہوئے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس ہو گئی ہے جبکہ سو افراد زخمی ہیں۔

یہ دھماکا اس وقت ہوا جب 54 منزلہ عمارت میں شفٹیں تبدیل ہو رہی تھیں۔ یہ دھماکا پیمیکس کی عمارت کے قریب واقع ایک اور عمارت کی نچلی منزلوں میں ہوا۔

ریڈ کراس کی ایمبولنسیں اور ہیلی کاپٹر زخمیوں کو ہسپتال پہنچا رہے ہیں، جب کہ فائر فائٹر اور فوجی کرینوں کی مدد سے ملبے میں پھنسے ہوئے زندہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

ایک خاتون آنا برگس پلاسیو نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ انھوں نے اپنے خاوند کے فون پر ’کال کی لیکن اور ایک اور شخص نے فون کا جواب دیا، جنھیں فون ملبے میں سے ملا تھا۔‘

صدر اینریک پینا نیئتو اور میکسیکو سٹی کے میئر میگل اینجل مانسیرا نے دھماکے کے مقام کا دورہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ پیمیکس کے کارکن اور سکیورٹی ٹیمیں زخمیوں کی مدد کر رہی ہیں۔

پینا نے کہا، ’ہمارے پاس دھماکے کی وجوہات کے بارے میں کوئی فیصلہ کن رپورٹ موجود نہیں ہے۔ ہم پہلے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تفتیش کر رہے ہیں، اور اگر کسی کو قصوروار پایا گیا تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘

بی بی سی کے نمائندے ول گرانٹ نے کہا ہے کہ یہ میکسیکو سٹی میں 30 برسوں میں سب سے بڑا دھماکا ہے۔ پیمیکس کا بھی کہنا ہے کہ ملبے میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے کتوں کی مدد سے تلاش جاری ہے۔

میکسیکو شہر میں ہمارے نمائندے کے مطابق ریڈ کراس کے ایمبولنسوں اور عملے کو زخمیوں کی مدد کرتے ہوئے جب کہ عمارت کے سامنے باہر گلی میں ملبے کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا۔

پیمیکس نے جمعرات کو ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا تھا کہ ان کے بجلی کے نظام میں کچھ خرابی پیدا ہوئی ہے تاہم بعد میں انہوں نے دھماکے کی تصدیق کی اور کہا کہ عمارت میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

"عمارت ہل گئی، بجلی چلی گئی اور پھر ہر طرف ملبہ تھا۔ہمارے ساتھی ملازمین ہمیں عمارت سے نکلنے میں مدد کر رہے تھے"

عینی شاہد کرسشین اوبیلے

واضح رہے کہ چوون منزلہ پیمیکس ایکزیکٹیو ٹاور میں جو میکسیکو شہر کے کمرشل ایریا میں واقع ہے سنیکڑوں افراد کام کرتے ہیں۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ہمارے نمائندے کے مطابق اس دھماکے کی ابھی تک وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین کے لواحقین اپنے عزیزوں کو ڈھونڈنے کے لیے عمارت کے باہر جمع ہو گئے ہیں۔

عینی شاہد کرسچیئن اوبیلے نے کہا کہ ’عمارت ہل گئی، بجلی چلی گئی اور پھر ہر طرف ملبہ تھا۔ہمارے ساتھی ملازمین ہمیں عمارت سے نکلنے میں مدد کر رہے تھے‘۔

ایک دوسرے عینی شاہد نے کہا کہ’ہم باتین کر رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا جس سے سفید دھواں پیدا ہوا اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔لوگ گردوغبار سے بھری عمارت سے باہر دوڑنے لگے‘۔

پیمیکس نے جمعرات کو کہا کہ وہ دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہے جب کہ کمپنی کے چیف ایکزیکٹیو ایمیلیو لوزویا اسٹن ایشیا کا اپنا کاروباری دورہ مختصر کرکے میکسیکو واپس روانہ ہو گئے ہیں۔

میکسیکو کے صدر نے ٹوئیٹر پر کہا کہ ’مجھے پیمیکس میں کارکنوں کی ہلاکت پر بے حد افسوس ہے۔میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ افسوس کرتا ہے۔اب اولین ترجیح یہ ہے کہ زخمیوں کی مدد کی جائے اور جو وہاں کام کر رہے ان کو تحفظ دیا جائے۔‘

صدر نے دھماکے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ستمبر میں بھی شمالی میکسیکو میں پیمیکس کے گیس پلانٹ میں دھماکے سے تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔