انقرہ:امریکی سفارتخانے کے باہر خودکش دھماکہ، دو ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 12:18 GMT 17:18 PST

دھماکے سے سفارتخانے کی عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امریکی سفارتخانے کے باہر ہونے والے دھماکے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

امریکی اور ترک حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا اور ترکی میں امریکہ کے سفیر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خودکش حملہ آور اور ایک سکیورٹی گارڈ شامل ہیں۔

یہ دھماکہ جمعرات کی صبح سفارتخانے کے ذیلی دروازے کے سامنے ہوا اور مقامی انتظامیہ کے مطابق اس میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

امریکی سفارتخانہ انقرہ میں چنکایا کے علاقے میں واقع ہے جہاں کئی دیگر ممالک کے سفارتخانے بھی ہیں۔

دھماکے کے بعد جائے وقوع سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا اور امدادی اداروں کی درجنوں گاڑیاں جائے وقوع کی جانب جاتی دیکھی گئیں۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا

ترک ٹی وی این ٹی وی کے مطابق دھماکے سے سفارتخانے کے اندر کوئی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ ٹی وی پر نشر کی جانے والی تصاویر میں عمارت کے بیرونی حصے میں ٹوٹ پھوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے دھماکے کے بعد کم از کم ایک خاتون کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کرتے دیکھا ہے۔

تاحال کسی گروپ کی جانب سے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

انقرہ میں موجود بی بی سی کے سابق صحافی گلنار موتیولی نے سفارتخانے کے سامنے واقع ایک ٹریول ایجنسی کی ملازمہ سے بات کی جس کا کہنا تھا کہ اسے یقین ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا اور اس نے حملہ آور کی لاش ایمبولینس میں رکھی جاتے دیکھی ہے۔

انقرہ میں آخری بڑا حملہ دو ہزار سات میں ہوا تھا جس میں ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ کر کے نو افراد کو ہلاک اور ایک سو بیس کو زخمی کر دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔