مصری وزیرِاعظم کو مظاہرین نے گھیر لیا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 فروری 2013 ,‭ 20:51 GMT 01:51 PST

مصر میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری تشدد کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

مصری وزیرِاعظم ہاشم قندیل نے کہا ہے کہ انھیں مصر میں بڑھتی ہوئی شورش کے دوران قاہرہ کے تحریر چوک میں نوجوانوں اور شرپسندوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ہاشم قندیل نے ہفتے کے روز ہونے والے اس واقعے کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے ’چوک میں موجود افراد کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔‘

انھوں نے واقعے کی تفصیلات نہیں بتائیں، لیکن مصری ٹیلی ویژن ڈریم لائیو ٹی وی نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم کی کار پر پتھر برسائے گئے۔

ایک ہفتے سے جاری خونریز تشدد کے بعد، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جمعے کے روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان صدارتی محل کے قریب جھڑپیں ہوئیں۔

قندیل نے ایک بیان میں کہا کہ انھیں ہفتے کے روز تحریر چوک میں مظاہرین نے گھیر لیا تھا، اور کہا کہ وہ ’مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم کو روکنا چاہتے تھے۔‘

یہ واقعہ اس کے ایک دن بعد ہوا ہے جب بلوہ پولیس نے صدارتی محل کے قریب پتھر برسانے والے ایک ہجوم پر آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کیا۔

اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

مظاہرین صدر محمد مرسی پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے 2011 کے انقلاب سے غداری کی ہے۔ صدر اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

فیس بک پر ایک پیغام میں صدر نے خبردار کیا کہ سکیورٹی افواج سرکاری اداروں کو بچانے کے لیے’ بے حد فیصلہ کن انداز‘ میں کارروائی کریں گی، اور تشدد کے مرتکب افراد کو ’سیاسی طور پر ذمے دار ٹھہرایا جائے گا۔‘

حالیہ شورش 24 جنوری کو قاہرہ میں انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقعے پر شروع ہوئی اور بعد میں متعدد شہروں میں پھیل گئی۔

منگل کے دن مصری فوج کی سربراہ جنرل عبدالفح السیسی نے خبردار کیا تھا کہ سیاسی بحران ریاست کو گرانے کا باعث بن سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔