مالی میں لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی: اولاند

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 16:25 GMT 21:25 PST

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند سنیچیر کو وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیر ترقیات کے ساتھ مالی پہنچے اور مالی کے عبوری صدر ڈیونگ کونڈا ترارے نے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ مالی میں اسلامی باغیوں کے خلاف کارروائی شروع ہونے کے تین ہفتے بعد یہ سوچنا غلط ہے کہ مالی میں لڑائی ختم ہو چکی ہے۔

صدر فرانسوا اولاند مالی کے دورے پر ہیں جس کے دوران انہوں نے شہر ٹمبکٹو کا بھی دورہ کیا جس پر حال ہی میں فرانس کی قیادت میں لڑنے والی فوج نے قبضہ کیا ہے۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ان کے ملک کی افواج ملک کے شمال میں اسلامی باغیوں کے خلاف جاری کارروائی میں شامل رہیں گی اور مالی کی فوج کی مدد کریں گی۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے طوارگ باغیوں اور عربوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے امتناعِ نسل کشی کے خصوصی مشیر نے کہا کہ مالی کی فوج کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات ہیں جن میں قتل کرنا اور جبری طور پر غائب کرنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ ہجوم کی جانب سے طوارگ اور عرب آبادیوں میں قتل عام اور جائیدادوں کے لوٹے جانے کی رپورٹیں بھی ہیں جن پر ان مسلح اسلام پسند شدت پسندوں کی حمایت کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

فرانسیسی افواج سے ٹمبکٹو کے ہوائی اڈے پر خطاب کرتے ہوئے فرانسوا اولاند نے خبردار کیا کہ یہ مشن اب بھی خطرناک ہے

یہ الزامات اس وقت لگائے گئے ہیں جب فرانسیسی اور مالی کی افواج شمالی مالی میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

ان کی کوشش ہے کہ وہ شمال مشرقی شہر کدال پر قبضہ مکمل کر سکیں جسے شدت پسندوں کا آخری گڑھ سمجھا جا رہا ہے۔ کدال کے ہوائی اڈے پر بدھ کو قبضہ کیا گیا تھا۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند سنیچیر کو مرکزی قصبے سِواری پہنچے اور ان کے ساتھ فرانسیسی وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیر ترقیات بھی تھے۔ مالی کے عبوری صدر ڈیونگ کونڈا ترارے نے ان کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔

اس کے بعد وہ ٹمبکٹو کے ہوائی اڈے پر پہنچے اور انہیں سات سو سال قدیم ایک مٹی سے بنی مسجد جنگو ریہبر اور احمد بابا انسٹیٹیوٹ لیجایا گیا جہاں شدت پسندوں نے دو ہزار کے قریب نادر اور نایاب نسخے جلا دیے تھے۔

صدر اولاند نے کہا کہ فرانسیسی افواج اس وقت تک فرانس میں رہیں گی ’جب تک ان کی ضرورت ہو گی جب تک انتقال مکمل نہیں ہو جاتا۔‘

"ٹمبکٹو کی خواتین فرانسوا اولاند کی ہمیشہ شکرگزار رہیں گی۔ ہم انہیں بتانا چاہیں گی کہ انہوں نے درخت تو کاٹ دیا ہے لیکن اس کو جڑ سے بھی اکھاڑنا ہو گا۔"

ٹمبکٹو کی رہائشی فانتا دیارہ تورے

ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگوں نے فرانسیسی صدر کا خیر مقدم کیا اور انہوں نے مسٹر اولاند کی تعریف میں نعرے بھی لگائے۔ فرانسیسی صدر کے ساتھ بات کرتے ہوئے مالی کے عبوری صدر ڈیونگ کونڈا ترارے نے کہا کہ ’یہ ظاہر کرتا ہے کہ فرانس مالی کے ساتھ کس حد تک مل کر جانے کو تیار ہے اور ہم فرانس سے درخواست کریں گے کہ وہ اس کام کو جاری رکھیں۔‘

فرانس کے صدر کے استقبال پر آئے لوگ ’فرانس زندہ باد‘ اور ’فرانسوا اولاند زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے کہ جب ان کے سامنے سے فرانسیسی صدر کا قافلہ گزر رہا تھا۔

ایک شہری مصطفیٰ بن اسیاتی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’اگر میں ایک خواہش کر سکوں تو وہ یہ ہو گی کہ فرانسیسی فوج صحارا کے علاقے میں رہے اور یہاں ایک اڈہ بنا لے۔‘

اس موقع پر بہت سی خواتین رنگین کپڑے اور زیوارت پہنے ہوئے شامل ہوئیں جو ان کے مطابق ماضی میں اسلامی حکومت میں ممکن نہیں تھا۔

"یہ تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا اور اس کو ختم سمجھنا ایک غلطی ہو گا کیونکہ ہم نے اپنے مالی کے دوستوں کے ساتھ مل کر ٹمبکٹو اور گاؤ جیسے شہروں میں امن تو قائم کر دیا ہے اس لیے یہاں رک جانا چاہیے۔"

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند

ترپن سالہ فانتا دیارہ تورے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ٹمبکٹو کی خواتین فرانسوا اولاند کی ہمیشہ شکرگزار رہیں گی۔ ہم انہیں بتانا چاہیں گی کہ انہوں نے درخت تو کاٹ دیا ہے لیکن اس کو جڑ سے بھی اکھاڑنا ہو گا۔‘

فرانسیسی ریڈیو سٹیشن پر بولتے ہوئے مالی کے دارالحکومت بماکو کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کا دورہ اچھی بات ہے اور ’یہ اچھی بات ہے کہ فرانس کے صدر ٹمبکٹو میں ہیں جہاں وہ دیکھ سکیں گے کہ اسلامی شدت پسندوں نے کتنی تباہی پھیلائی ہے۔ اور وہ اُن لوگوں سے بھی مل رہے ہیں جنہوں نے یہ تمام تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ اور مالی کے لوگوں کے لیے بھی یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کر سکیں کہ انہوں نے اس لڑائی میں ان کا ساتھ دیا۔ جب ہم نے سنا کہ فرانسیسی آ رہے ہیں تو ہمیں یہ ایک تحفہ لگا۔‘

فرانسیسی افواج سے ٹمبکٹو کے ہوائی اڈے پر خطاب کرتے ہوئے فرانسوا اولاند نے خبردار کیا کہ یہ مشن اب بھی خطرناک ہے اور کہا کہ ’یہ تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا اور اس کو ختم سمجھنا ایک غلطی ہو گا کیونکہ ہم نے اپنے مالی کے دوستوں کے ساتھ مل کر ٹمبکٹو اور گاؤ جیسے شہروں میں امن تو قائم کر دیا ہے اس لیے یہاں رک جانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’مالی کے حکام علاقائی سالمیت بحال کرنا چاہتے ہیں جو ان سے چھین لی گئی تھی اور اس میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔‘

مالی روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ افریقی افواج فرانسیسی افواج کی جگہ فوری طور پر تعینات کر دی جائیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ مالی کی عبوری حکومت فوری طور شمال میں موجود باغی گروہوں کے ساتھ ایک سیاسی عمل کا آغاز کرے۔

صدر اولاند کو سات سو سال قدیم ایک مٹی سے بنی مسجد جنگو ریہبر اور احمد بابا انسٹیٹیوٹ لیجایا گیا جہاں شدت پسندوں نے دو ہزار کے قریب نادر اور نایاب نسخے جلا دیے تھے

مالی میں اس کارروائی میں تقریباً آٹھ سو فوجیوں نے، جن میں سینکڑوں چھاتہ بردار بھی شامل تھے، اس کارروائی میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں چھ دن قبل ٹمبکٹو پر دوبارہ قبضہ کیا گیا۔

اس وقت ساڑھے تین ہزار کے قریب فرانسیسی افواج مالی میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ دو ہزار کے قریب چاڈ اور نیجر کے فوجی جنہیں صحرائے صحارا میں لڑنے کا تجربہ ہے مالی کی فوجوں کی مدد کے لیے مالی میں موجود ہیں۔

اسی طرح مختلف افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار کے قریب فوجی بھی جلد تعینات کیے جائیں گے۔

ٹمبکٹو میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو ہارڈنگ کا کہنا ہے کہ یہ صدر فرانسوا اولاند کے لیے ایک بہت بڑا موقع تھا لیکن خطرہ ہے کہ یہ ان کے لیے اتنا ہی اچھا ہو جتنا ان کے لیے بہتر ہو سکے۔

اینڈریو ہارڈنگ کے مطابق ٹمبکٹو ابھی تک آدھا خالی ہے لیکن جن لوگوں نے کئی ماہ تک اس شہر میں تکالیف جھیلی ہیں ان میں اطمینان محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق حالات اب مزید پیچیدہ ہو جائیں گے، اگر فرانسیسی افواج کے انخلاء کی حکمتِ عملی غلط ہوجاتی ہے اور تیزی سے یہ اقدام کرتے ہیں تو مالی بہت آسانی سے واپس افراتفری کے ماحول میں جا سکتا ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔