ہارورڈ میں نقل کرنے والے طلباء پر پابندی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 05:02 GMT 10:02 PST

ہارورڈ کا شمار نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے

امریکہ کے ممتاز تعلیمی ادارے ہارورڈ یونیورسٹی نے درجنوں طالبعلموں پر امتحان میں نقل کرنے پر تعلیمی پابندیاں عائد کی ہیں۔

یونیورسٹی کے ایک ڈین کی جانب سے سیاسیات کے شعبے کے طلباء و طالبات کو ای میل کے ذریعے ان پابندیوں سے مطلع کیا گیا ہے۔

ای میل میں ایک سو پچیس میں سے نصف سے زائد طالبعلموں سے کہا گیا ہے کہ وہ تحقیقات کی تکمیل تک یونیورسٹی نہ آئیں جبکہ دیگر کو زیرِ نگرانی رکھنے کی بات کی گئی ہے۔

ہارورڈ میں امتحان میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب ایک استاد نے سیاسیات کے انڈرگریجویٹ کورس کے پرچے میں ایک جیسے جوابات کی نشاندہی کی۔

ہارورڈ کرمزن کے مطابق اس کورس میں شامل دو سو اناسی طالبعلموں میں سے تقریباً نصف تحقیقات کے دائرے میں ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کورس میں شامل ایک مضمون کے امتحان کے قوانین اور یونیورسٹی کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے عمل پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

تاہم یونیورسٹی کی آرٹس اینڈ سائنسز فیکلٹی کے ڈین مائیکل سمتھ نے کہا ہے کہ اب یہ معاملہ حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک ای میل میں بتایا ہے کہ ’نصف سے زائد معاملات میں نتیجہ کورس سے علیحدگی نکلا ہے۔ بقیہ معاملات میں نصف کے قریب طالبعلموں کو زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے جبکہ باقی کو بری کر دیا گیا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق اس سکینڈل میں ملوث کچھ طالبعلموں کا تعلق ہارورڈ کی سپورٹس ٹیموں سے بھی ہے۔ اس کارروائی کے بعد یونیورسٹی کی باسکٹ بال ٹیم کے دو شریک کپتانوں کو ٹیم سے نکال دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے ڈین کا کہنا ہے کہ اب یونیورسٹی کی ایک اندرونی کمیٹی ادارے میں ایمانداری کے فروغ کے لیے اپنی سفارشات جمع کروائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔