ایران نے ’سٹیلتھ طیارہ بنا لیا‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 فروری 2013 ,‭ 19:54 GMT 00:54 PST

ایران کا کہنا ہے کہ اس جہاز کو ریڈار سے شناخت کرنا بہت مشکل ہے

ایران نے ایک نیا ملکی ساختہ جہاز بنایا ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ریڈار سے بچ سکتا ہے۔

ایک نشست والے اس جہاز کو قاہر ایف 313 کا نام دیا گیا ہے، اور یہ 2007 میں ایرانی فوج کی جانب سے آزرخش نامی جنگی جہاز کی تیاری کے بعد سے تازہ ترین اختراع ہے۔

صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اس نے دنیا کے جدید ترین جہاز کی ’تمام مثبت خصوصیات‘ حاصل کر لی ہیں۔

انھوں نے کہا، ’ایران کی قومی فوجی طاقت بچاؤ اور دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔‘

انھوں نے تہران کے ایک ہوائی اڈے سے سرکاری ٹیلی ویژن پر ہفتے کے دن تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا وہ اس جہاز کو ’دنیا کے جدید ترین جہازوں میں سے ایک‘ سمجھتے ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر جہاز کی تصویریں دکھائی گئی ہیں، جن میں ایک خاکستری رنگ کا جیٹ دکھایا گیا ہے، جس کے بارے میں ایران کی وزیرِ دفاع احمد وحیدی نے کہا کہ اسے ’جدید میٹریل‘ سے بنایا گیا ہے اور اسے ریڈار سے شناخت کرنا بہت مشکل ہے۔

یہ تقریب انقلابِ ایران کی 34ویں سالگرہ کے موقعے پر منعقد کی گئی، جس میں امریکی پشت پناہی سے قائم شاہ کی حکومت کو گرا کر اسلامی حکومت قائم کی گئی تھی۔

ایران نے رواں ہفتے ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پیش گام نامی راکٹ کی مدد سے خلا میں کامیابی سے بندر بھیجنے کا تجربہ کیا ہے اور یہ راکٹ 120 کلومیٹر بلند مدار تک پہنچا تھا۔

مغربی ممالک نے اس کے جواب میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کا خلائی پروگرام طویل مار میزائل بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جنھیں ممکنہ طور پر جوہری اسلحہ لے جانے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

ایران اس کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔