نائیجر:فرانسیسی فوجی یورینیم کی کان کے محافظ

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 07:56 GMT 12:56 PST
اریوا

فرانسیسی کمپنی اریوا سب سے زیادہ یورینیم نائجر سے حاصل کرتی ہے

نائیجر کے صدر نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک میں یورینیم کی بڑی کانوں میں سے ایک کی حفاظت پر فرانسیسی فوج کے خصوصی دستے تعینات ہیں۔

صدر محمدو اسوفو نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا ہے کہ الجیریا میں یرغمالیوں کے بحران کے بعد ملک میں آرلٹ کی معدنی کان پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ نائیجر دنیا میں سب سے زیادہ یورینیم پیدا کرنے والے ممالک میں پانچویں مقام پر ہے۔

نائیجر میں کان کنی کے میدان میں فرانسیسی کمپنی اریوا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اریوا کو اپنی زیادہ تر یورینیم ملک کی دو بڑی کانوں سے حاصل ہوتی ہے جن میں سے ایک آرلٹ ہے اور دوسری اموریرن۔

تین سال قبل اسلامی شدت پسندوں نے آرلٹ کی کان سے پانچ فرانسیسی کارکنوں کو اغوا کر لیا تھا۔ ان میں سے چار افراد ابھی تک ان کے قبضے میں ہے۔

ان کے علاوہ دیگر دو سے تین فرانسیسی مغوی بھی ان کے قبضے میں ہیں اور کہا جاتا ہے وہ شمالی مالی میں ہونگے جہاں القاعدہ کے شدت پسندوں سے فرانسیسی فوج برسرپیکار ہے۔

"الجیرا کے واقعے کے بعد بطور خاص ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس معاملے میں کسی قسم کا خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ہے اور ان کانوں پر حفاظت کو بڑھا دیا گیا"

نائجر صدر محمدو اوسوفو

نائیجر کے صدر سے جب یہ دریافت کیا گيا کہ کیا وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ملک کے یورینیم کے ذخیرے کی حفاظت فرانسیسی فوج کے خصوصی دستے کر رہے ہیں تو انھوں نے چینل ٹی وی پانچ پر کہا کہ’یقیناً میں اس کی تصدیق کر سکتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’الجزائر کے واقعے کے بعد بطور خاص ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس معاملے میں کسی قسم کا خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ہے اور ان کانوں پر حفاظتی انتظامات کو بڑھا دیا گیا۔‘

فرانس کی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے بتایا کہ فرانس کی خصوصی دستے کے درجنوں فوجی اس سائٹ پر تعینات ہیں اور وہاں کے حفاظتی اقدام کو تقویت فراہم کر رہے ہیں۔

گزشتہ مہینے مشرقی الجیریا میں امیناس پلانٹ پر اسلامی عسکریت پسندوں کا قبضہ ہونے کے دوران بیروں ممالک کے کم سے کم سینتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔