’چوّن ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 فروری 2013 ,‭ 18:45 GMT 23:45 PST

ایک طیارہ جس پر کوئی نام نہیں مبینہ طور پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے مشتبہ افراد کو لے کر سپین کے جزیرے پالمہ ڈی ملورکہ سے اڑ رہا ہے

امریکی تنظیم اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ دنیا کے چوّن ممالک نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی مختلف طریقوں سے گرفتار شدگان پر دورانِ حراست تشدد اور غیر قانونی حوالگی میں مدد کی ہے۔

نیو یارک میں قائم امریکی تنظیم اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن نے یہ دعویٰ اپنی رپورٹ میں کیا ہے جس کا عنوان ہے ’گلوبلائزنگ ٹارچر: سی آئی اے سیکرٹ دیٹنشن اینڈ ایکسٹرا اورڈنری رینڈیشن‘ یعنی زیر حراست تشدد کو عالمی سطح پر لے کر جانا جس میں سی آئی اے کی جانب سے خفیہ طور پر حراستیں اور غیر معمولی حوالگی کے معاملات ہیں۔

غیر قانونی حوالگی سے مراد مختلف مشتبہ افراد کو بغیر قانونی کارروائی کیے ایک ملک سے دوسرے ملک یا اس صورت میں امریکہ کے حوالے کیا جانا ہے۔ بعض صورتوں میں اس سے مراد امریکہ کا مختلف مشتبہ افراد کو دنیا میں مختلف ممالک کے حوالے کرنا بھی ہے جن میں امریکہ کے خفیہ حراست خانے تھے۔

اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں مزید احتساب کی ضرورت ہے جس میں الزام ہے کہ بش حکومت کے اہلکار ان معاملات میں ملوث تھے جو اوپن سوسائٹی کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ’حراست کے دوران تشدد اور دوسری خلاف ورزیاں جو اس پورے عمل کے ساتھ منسلک ہیں میں شامل ہونے سے امریکی حکومت نے ملکی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنی اخلاقی اقدار اور اصولوں کے منافی کام کیا ہے جس کے نیتجے میں بین الاقوامی سطح پر موجود دہشت گردی کے خلاف حمایت ختم ہوئی‘۔

"حراست کے دوران تشدد اور دوسری خلاف ورزیاں جو اس پورے عمل کے ساتھ منسلک ہیں میں شامل ہونے سے امریکی حکومت نے ملکی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنی اخلاقی اقدار اور اصولوں کے منافی کام کیا ہے جس کے نیتجے میں بین الاقوامی سطح پر موجود دہشت گردی کے خلاف حمایت ختم ہوئی۔"

دی اوپن سوسائٹی کی رپورٹ

اوپن سوسائٹی کی یہ رپورٹ اب تک بنائی گئی سب سے موثر اور مکمل رپورٹ ہے جس میں اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور ان ممالک کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے جو سی آئی کے ساتھ ان غیر قانونی حراستوں میس شامل رہے اور جنہوں نے مختلف افراد کو مختلف طریقوں سے سی آئی اے کے حوالے کیا۔

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے غیر معمولی حالات میں حوالگی کی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مختلف ممالک بغیر قانونی تقاضوں کو پورا کیے مختلف مطلوب افراد کو امریکہ یا مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کر سکتے تھے جو ان افراد سے بعد میں تفشیش کر سکتی تھیں۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ ان افراد اور ایجنسوں پر امریکی سرزمین پر موجود قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔

اوپن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ دنیا کے چوّن ممالک نے مختلف طریقوں سے ان اقدامات کی حمایت کی تھی، جن میں سی آئی اے نے جیلیں بنائیں جن میں مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جاتی تھی، یا ایسی خفیہ پروازوں کی اجازت دی جاتی تھی جن میں خفیہ طور پر مشتبہ افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاتا تھا یا سی آئی اے کو خفیہ معلومات دی جاتی تھیں۔

رپورٹ میں امریکہ کے قریبی حلیف ممالک کے نام بھی شامل ہیں جیسا کہ آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، پولینڈ، سپین، ترکی اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔

غیر معمولی حالات میں حوالگی

سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے غیر معمولی حالات میں حوالگی کی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مختلف ممالک بغیر قانونی تقاضوں کو پورا کیے مختلف مطلوب افراد کو امریکہ یا مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے کر سکتے تھے جو ان افراد سے بعد میں تفشیش کر سکتی تھیں۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ ان افراد اور ایجنسوں پر امریکی سرزمین پر موجود قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔

اس فہرست میں جنوبی افریقہ کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ جنوبی افریقہ کی حکومت کی جانب سے امریکی خفیہ ادارے کو پاکستانی شہری سعود میمن کو اغوا کرنے کی اجازت دینا ہے جنہیں سنہ دو ہزار تین میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینئیل پرل کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ سعود میمن پاکستان میں سنہ دو ہزار سات میں رہا ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد فوت ہو گئے تھے۔

حیرت انگیز طور پر اس رپورٹ میں ایران کا ذکر ہے جس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہت خراب ہیں۔ تہران نے کم از کم دس مشتبہ افراد کو پکڑ کر کابل کی حکومت کے ذریعے امریکہ کے حوالے کیا جن میں سے اکثریتی عرب تھے۔

اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک بھی اس میں ذمہ دار ہیں جن میں سے صرف کینیڈا نے اپنے کردار پر معافی مانگی ہے۔ تین اور ممالک آسٹریلیا، برطانیہ اور سویڈن نے متاثرین کو ہرجانہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

صدر براک اوباما نے سنہ دو ہزار نو میں اقتدار میں آنے کے بعد ان تشدد آمیز تفتیش کے طریقوں کے استعمال کو بند کر دیا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ اوپن سوسائٹی صدر اوباما پر بھی اس رپورٹ میں تنقید کرتی ہے جنہوں نے حوالگی کے قانون کو برقرار رکھا ہے اس شرط پر کہ ان افراد سے حوالے کیے جانا والا ملک انسانی سلوک کرے گا۔

ایران امریکہ تعاون

حیرت انگیز طور پر اس رپورٹ میں ایران کا ذکر ہے جس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہت خراب ہیں۔ تہران نے کم از کم دس مشتبہ افراد کو پکڑ کر کابل کی حکومت کے زریعے امریکہ کے حوالے کیا جن میں سے اکثریتی عرب تھے۔

اس رپورٹ میں تنظیم نے ایک سو چھتیس افراد کے نام لیے ہیں جن کو غیر معمولی حالات میں حوالگی کی پالیسی کے تحت حراست میں رکھا گیا یا حوالے کیا گیا۔

اس رپورٹ میں صرف سی آئی اے کی کارروائیوں کی بات کی گئی ہے اور امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے معاملات کو زیر غور نہیں لایا گیا ہے جس کے تحت گوتنامو بے کا متنازعہ قید خانہ کام کرتا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے مختلف افراد کو گوانتانامو بے میں حراست میں رکھا جبکہ اس کے علاوہ افغانستان، لتھوینیا، مراکش، پولینڈ، رومانیہ اور تھائی لینڈ میں بھی ایسی حراست گاہیں تھیں جہاں مختلف افراد کو رکھا جاتا رہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق دورانِ حراست کچھ قیدیوں کو مصنوعی دیواروں میں دے مارا گیا، ان کو مختلف تکلیف دینے والے جسمانی کاموں میں لگایا گیا، انہیں ان کی رضامندی کے بغیر برہنہ کیا گیا اور انہیں تھپڑ مارے گئے۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن نے ماضی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی تفتیش کاروں نے تین افراد کو واٹر بورڈنگ کا نشانہ بنایا تھا جس میں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ڈوب رہا جب اس پر پانی ایک مخصوص طریقے سے پھینکا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن لواٹر بورڈنگ کو تشدد ہی کی ایک قسم کہتے ہیں۔

سعود میمن کا اغوا

اس فہرست میں جنوبی افریقہ کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کی وجہ جنوبی افریقہ کی حکومت کی جانب سے امریکی خفیہ ادارے کو پاکستانی شہری سعود میمن کو اغوا کرنے کی اجازت دینا ہے جنہیں دو ہزار تین میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینئیل پرل کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ سعود میمن پاکستان میں دو ہزار سات میں رہا ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد فوت ہو گئے تھے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے گزشتہ دسمبر میں سی آئی کے طریقۂ کار پر چھ ہزار صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کے مندرجات ابھی تک خفیہ رکھے گئے ہیں۔

اسی کمیٹی کی سربراہ سینیٹر ڈائین فیسٹن نے کہا کہ خفیہ حراست خانے اور تشدد آمیز تفتیش ’بہت خطرناک غلطیاں‘ تھیں۔

سی آئی اے نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

یاد رہے کہ بہت سے امریکی اراکین کانگریس اور سینیٹ نے ماضی میں شدت سے تفتیش کے لیے استعمال ہونے والی بعض طریقوں کی حمایت کی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ایک ظالم دشمن کے مقابلے کے لیے یہ سب ضروری ہے۔

اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کی بنیاد ایک ارب پتی اور مخیر امریکی شہری جارج سوروس نے رکھی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔