’فرانس مالی میں اصلی جنگ لڑ رہا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 15:26 GMT 20:26 PST
فرانس کے وزیر دفاع جین ویس لی ڈارین

یہ اصلی جنگ ہے جس میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوتی ہیں: فرانس کے وزیر دفاع

فرانس کے وزیِر دفاع ژاں یویس لا دریاں کا کہنا ہے کہ مالی کے قصبے گاؤ میں اب فرانسیسی فوج ’شدت پسندوں‘ کے ساتھ ’باقاعدہ جنگ‘ میں مصروف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ گاؤ سے اسلامی شدت پسندوں کا صفایا ہوگیا تھا لیکن ابھی تک علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔

مالی کے شمالی علاقوں میں القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے تقریباً ایک ماہ قبل فرانسیسی فوج کو تعینات کیا گیا۔

فرانس کا کہنا ہے کہ وہ مارچ میں اپنے فوجی دستوں کو وہاں سے نکالنے کا کام شروع کر دے گا۔

حکومتِ فرانس کے ترجمان کے مطابق صدر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو مارچ کے مہینے سے مالی سے فرانسیسی فوج کو کم کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

مالی کے زیادہ تر علاقوں سے شدت پسندوں کو صاف کر دیا گیا ہے۔ تاہم دوردراز قصبوں میں ابھی تک لڑائی جاری ہے۔

فرانس کے وزیر دفاع نے بتایا کہ منگل کو اسلامی شدت پسندوں نے فرانس اور مالی کی فوجوں کے ساتھ لڑائی میں راکٹوں کا استعمال کیا۔

اس سے پہلے انہوں نے بتایا تھا کہ ایک ماہ سے جاری اس لڑائی میں اب تک سینکڑوں شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

جب ان ہلاکتوں کے بارے میں معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’یہ اصلی جنگ ہے جس میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ میں گنتی نہیں کر سکتا۔‘

اس لڑائی میں اب تک ایک فرانسیسی فوجی کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

گاؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ منگل کو شہر کے مرکز میں بمباری کی شدید آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

اسلامی شدت پسندوں نے شمالی مالی کے بڑے حصے پر قبصہ کرکے وہاں سخت گیر شریعت کا نظام نافذ تھا۔

یاد رہے کہ فرانس نے ملک کی مشرق کی طرف باغیوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مالی میں گیارہ جنوری کو فوجی مداخلت کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔