شام: دارالحکومت دمشق کے قریب شدید لڑائی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 03:09 GMT 08:09 PST

شام میں باغیوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق میں صدر بشارالاسد کی حامی افواج پر باغیوں کے حملے کے بعد لڑائی میں مزید شدت آ گئی ہے۔

اس لڑائی کا مرکز جبار کا علاقہ دارالحکومت دمشق کے گرد موجود رِنگ روڈ کا ایک اہم چوراہا ہے۔

شامی فوج نے بھی باغیوں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ واضح نہیں کہ شامی باغی اس علاقے پر اپنا تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں یا نہیں جس پر قبضے کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔

باغیوں کے ایک کمانڈر نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم لڑائی جبار تک لے آئے ہیں اور یہاں شدید لڑائی جاری ہے کیونکہ جبار دمشق کے دل تک پہنچنے کی چابی ہے‘۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق شامی فوج نے اس علاقے پر شدید گولہ باری کی ہے۔

اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شام کے قصبے پلمیرا میں ہونے والی بمباری میں انیس افراد ہلاک ہوگئے۔

پلمیرا اور دمشق میں یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب شامی حزب مخالف رہنما معاذ الخطیب نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے اتوار تک خواتین قیدیوں کو رہا نہ کیا تو ان کی جانب سے شام کے صدر بشار الاسد کو دی گئی مذاکرات کی دعوت واپس لے لی جائے گی۔

معاذ الخطیب نے بی بی سی عربی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ آنے والی اتوار تک خواتین کو ہر صورت رہا کیا جائے۔ واضح رہے کہ معاذ الخطیب کو حال ہی میں شام کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔

دمشق میں بدھ کو ہونے والے لڑائی چند ماہ میں ہونے والی سب سے شدید لڑائی قرار دی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دمشق کے جنوبی علاقے میں باغیوں کے مضبوط گڑھ کا رابطہ شہر سے مرکز سے فی الحال منقطع ہے۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے جم میور کا کہنا ہے کہ حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بھی شہر کے مشرقی علاقوں پر فوج کی گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

جہاں باغیوں نے اس لڑائی میں پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے وہیں شامی حکام کا کہنا ہے کہ صدر کی حامی افواج انہیں پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ فوج نے دمشق کے مضافات میں مربوط اور فیصلہ کن کارروائی شروع کر دی ہے۔

شام میں ایک اندازے کے مطابق صدر بشارالاسد کی حامی افواج اور باغیوں میں گزشتہ بائیس ماہ سے جاری لڑالی میں اب تک ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تشدد کے باعث پورا خطہ غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ شام سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔