افغانستان میں بدعنوانی کی لاگت میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 12:19 GMT 17:19 PST
(فائل فوٹو)

افغانستان کے صوبے ہرات میں بدعنوانی کے خلاف ایک دوڑ

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے، البتہ اب پہلے کی نسبت کم لوگ رشوت دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدعنوانی کی مد میں ادا کی گئی رقم 2012 میں بڑھ کر تین ارب نوے کروڑ ڈالر ہو گئی ہے، جو ملک کی قومی آمدنی کا دوگنا ہے۔ اس کے مقابلے پراب 50 فیصد افغان رشوت دے رہے ہیں، جب کہ یہ تعداد 2009 میں 58 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا کہنا ہے کہ انھیں سرکاری ملازمین کی طرف سے چھوٹی موٹی رشوت لینا قابلِ قبول ہے۔

حکومت اس کا الزام بین الاقوامی برادری کے اس نظام پر لگاتی ہے جس کے تحت حکام کو ٹھیکے دیے جاتے ہیں، جس سے بدعنوانی پھیلتی ہے۔

تاہم وہ قبول کرتی ہے کہ مختلف حکومتی طبقات میں رشوت کا مسئلہ دور تک پھیلا ہوا ہے۔

بی بی سی کے بلال سروری کا کہنا ہے کہ جو کچھ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے وہ محض آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ سروے میں حصہ لینے والے لوگ کس حد تک رشوت اور بدعنوانی کے بارے میں کھل کر بات کر پا ئے ہیں۔

یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور افغانستان کے انسدادِ بدعنوانی کے ادارے کی مشترکہ کاوش ہے، اور اس میں 6700 افراد کی رائے حاصل کی گئی تھی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں کچھ واضح ترقی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن 2012 میں بدعنوانی کی کل لاگت بڑھ کر تین ارب 90 کروڑ ڈالر ہو گئی ہے، جو 2009 کے مقابلے پر 40 فیصد زیادہ ہے۔

"افغان جانتے ہیں کہ بدعنوانی ان کے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اس کا حل صرف حکومت کے بس کا نہیں بلکہ اس کے حل کے لیے وسیع تر معاشرے کو بھی حصہ لینا ہو گا۔"

یو این او ڈی سی کے مقامی نمائندے ژاں لوک لیماہیو

اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس افغانوں نے جو رشوتیں دیں، وہ ملک کی قومی آمدنی کے دوگنا کے برابر ہے۔ یہ رقم گذشتہ برس جاپان میں افغانستان پر ہونے والی ایک کانفرنس میں عطیہ دہندگان کی طرف سے 16 ارب ڈالر کی وعدہ کردہ رقم کا ایک چوتھائی ہے۔

تاہم عوام بتدریج بدعنوانی کو قبول کرتے جا رہے ہیں یہ ایک ’سماجی عادت‘ بن کر رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جن لوگوں نے سروے میں حصہ لیا، ان میں سے 68 فیصد سے زائد لوگ اس بات کو قابلِ قبول سمجھتے ہیں کہ کسی سرکاری ملازم کو اپنی معمولی تنخواہ میں اضافہ کرنے کے لیے چھوٹی موٹی رشوت لے لینی چاہیے۔ یہ تعداد 2009 میں 42 فیصد تھی۔

یو این او ڈی سی کے مقامی نمائندے ژاں لوک لیماہیو کہتے ہیں، ’افغان جانتے ہیں کہ بدعنوانی ان کے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اس کا حل صرف حکومت کے بس کا نہیں بلکہ اس کے حل کے لیے وسیع تر معاشرے کو بھی حصہ لینا ہو گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔