چین میں نئے سال پر کرائے کے بوائے فرینڈ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 09:34 GMT 14:34 PST

بہت سے لوگ چھٹیوں سے مزے لتیے ہیں لیکن لاکھوں غیر شادی شدہ چینی افراد محض ان چھٹیوں کو گزاریں گے

چین کے لوگ کچھ ہی دنوں میں سال کا سب سے بڑا جشن یعنی سالِ نو منانے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر چھٹیاں ہوں گی، آتش بازی ہوگی، کھانے پکیں گے اور لوگ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاریں گے۔

بہت سے لوگ چھٹیوں سے لطف اندوز ہوں گے لیکن لاکھوں غیر شادی شدہ افراد محض ان چھٹیوں کو گزاریں گے۔

بیجنگ شہر کے مرکز میں ایک دفتری ٹاور کے تہہ خانے میں واقع کینٹین میں اداسی چھائی ہوئی ہے۔یہاں ٹولیوں میں بیٹھی جوان خواتین نوڈلز کھا رہی ہیں۔ جب ان سے فروری میں منائے جانے والے نئے سال کی چھٹیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ غمزدہ دکھائی دیں۔

چین کے شمال مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والی ڈینگ نا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میری عمر گزر رہی ہے۔ اب میں تیس سال کی ہوں لیکن ابھی تک اکیلی ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں بڑی دباؤ میں ہوں۔ میری بہن اور میرے رشتہ دار مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی۔جب وہ مجھے فون کرتے ہیں تو میں فون سننے سے کتراتی ہوں۔‘

بیس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد جوان چینی خواتین تیس سال کی عمر تک شوہر ڈھونڈنے کے لیے سخت معاشرتی دباؤ میں ہوتی ہیں۔

بائی ڈاٹ کام چین کی بڑی ڈیٹنگ ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔اس ڈیٹنگ ایجنسی کے ساتھ مشیر کے طور کام کرنے والی ژو ژاؤپنگ کے مطابق نئے چینی سال کے قریب تنہا خواتین پر شادی کرنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

"میں بڑی دباؤ میں ہوں۔ میری بہن اور میرے رشتہ دار مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی۔جب وہ مجھے فون کرتے ہیں تو میں فون سننے سے کتراتی ہوں"

جوان چینی خاتون، ڈینگ نا

ژو کا کہنا ہے کہ ’چینی لوگ رات کے کھانے کے لیے اکھٹے بیٹھنا بے حد پسند کرتے ہیں۔ نئے سال کے موقع پر سب جوڑے بیٹھے ہوتے ہیں۔آپ کا بھائی آپ کے بھابی کے ساتھ، آپ کی بہن آپ کے بہنوئی کے ساتھ اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔اگر آپ واحد اکیلی فرد ہوں تو اس دباؤ اور مایوسی کا اندازہ کریں۔‘

خوش قسمتی سے چین کی سب مشہور آن لائن مارکیٹ اس مسئلے کے لیے ایک عارضی حل مہیا کرتی ہیں اور وہ حل کرائے پر نقلی یا عارضی بوائے فرینڈ کی دستیابی ہے۔

درجنوں اشتہارات میں یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دن پچاس امریکی ڈالر کے حساب سے چھٹیوں کے لیے بوائے فرینڈ مہیا کرتے ہیں جو اکیلی خاتون کا ساتھی بننے کا دکھاوا کرےگا۔

بعض اشتہارات میں تو پوری ریٹ لسٹ دی جاتی ہے۔ جیسا کہ رات کے کھانے پر ایک گھنٹے کے لیے جانے کا خرچہ پانچ امریکی ڈالر، گال پر ایک بوسے کے آٹھ امریکی ڈالر۔ اگر جعلی بوائے فرینڈ اپنی گاہک کے خاندان کے ساتھ نئے سال کے موقع پر رات گزارنے کے لیے ٹھہرے اور علیحدہ بستر پر سوئے تو اسّی ڈالر لیتا ہے اور اگر کاؤچ پر سوئے تو پچانوے ڈالر لیتا ہے۔

اس ملاقات میں جنسی تعلقات قائم کرنے کی کوئی کنجائش نہیں۔

ڈیٹنگ کنسلٹنٹ ژو ژاؤپنگ کے مطابق اکیلی خواتین پرشادی کرنے کا دباؤ نئے چینی سال کے قریب بڑھ جاتا ہے۔

لی لی ایک سیلزمین ہیں جو نئے سال کے موقع پر کرائے پر جعلی بوائے فرینڈ کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں تھوڑی سی ندامت ہے کہ نئے سال کے موقع پر صوبہ ہبائی میں آباد اپنے خاندان کے پاس جانے کے بجائے وہ کرائے کے بوائے فرینڈ بنیں گے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ سب کچھ پیسوں کے لیے نہیں کر رہے بلکہ ان کی کچھ اور اچھے خواہشات ہیں۔ ’یہ ایک دلچسپ کام ہے۔ شاید میری کسی ایسی خاتوں سے ملاقات ہو جائے جن کے ساتھ میری بن سکتی ہو۔ اس سے ہم دونوں خوش جائیں گے۔‘

ابھی تک تیس خواتین نے لی لی سے رابطہ کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ کسی ایسی خاتون کو پانا مشکل ہوتا ہے جو ان پر اعتماد کرے اور نئے سال کے موقع پر انہیں اپنے گھر بلائے۔

ابھی تک لی کو اپنے اشتہار کے خصوصی جواب کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ بہتر نتیجہ یہی ہو گا کہ اس کے ذریعے میری شادی ہو جائے۔‘

"چینی لوگ رات کے کھانے کے لیے اکھٹے بیھٹنا بے حد پسند کرتے ہیں۔نئے سال کے موقع پر سب جوڑوں میں بیھٹے ہوتے ہیں۔آپ کا بھائی آپ کے بھابی کے ساتھ، آپ کی بہن آپ کے بہنوئی کے ساتھ اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔اگر آپ واحد اکیلی فرد ہوں تو اس دباؤ اور مایوسی کا اندازہ کریں"

ڈیٹنگ کنسلٹنٹ، ژو ژاؤپنگ

چین میں ہٹ ٹی وی سیریز ’خاندان سے ملاقات کے لیے کرائے کی گرل فرینڈ‘ میں ایک اکیلے چینی مرد اور ان کی جعلی گرل فرینڈ کے درمیان معاشقہ دکھایا جاتا ہے۔

ہاں چینی مرد بھی کرائے پر گرل فرینڈ لیتے ہیں۔خاص کر وہ ہم جنس پرست مرد جن کے بارے میں ان کے خاندان کو معلوم نہیں ہوتا۔

تاہم ڈیٹنگ کنسلٹنٹ ژو ژاؤپنگ کا کہنا ہے کہ خواتین پر شادی کرنے کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔آخرکار، شاید یہ رویہ کبھی تبدیل ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اسی اور نوے کی دہائیوں میں پیدا ہونے والے جب والدین بنیں گے تو وہ اپنے بچوں پر اس قسم کا دباؤ نہیں ڈالیں گے جس دباؤ سے وہ اپنی جوانی میں گزرے۔شاید اس میں مزید بیس سے تیس سال لگ جائیں۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔