ڈرون حملے آخری حربہ ہوتے ہیں: جان برینن

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 03:28 GMT 08:28 PST

برینن جارج ڈبلیو بش کے دور میں سی آئی اے کے اعلیٰ اہلکار بھی رہ چکے ہیں

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے نامزد سربراہ جان برینن نے امریکی ڈرون حملوں کے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے آخری حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

جان برینن نے جمعرات کو امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی میں اپنی نامزدگی کی توثیق کے لیے ہونے والی بریفنگ میں بتایا کہ امریکہ کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کم سے کم ہو۔

یہ بریفنگ ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب امریکی قانون ساڑ ارکان کو ان دستاویزات تک رسائی دی گئی ہے جن میں القاعدہ سے غیر ممالک میں منسلک امریکی شہریوں کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کی توجیحات پیش کی گئی ہیں۔

ستاون سالہ جان برینن انسدادِ دہشتگردی کے معاملات کے لیے امریکی صدر براک اوباما کے مشیر ہیں اور اس سے پہلے وہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں سی آئی اے کے اعلیٰ اہلکار بھی رہ چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جان برینن نے کہا کہ کچھ امریکی سمجھتے ہیں کہ ڈرون حملے ماضی کی غلطیوں کی سزا دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اس سے زیادہ سچ سے دور بات کوئی نہیں ہو سکتی۔ ہم اسے آخری حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں جب خطرے کے خاتمے کے لیے کارروائی کا کوئی اور متبادل باقی نہیں رہتا۔‘

پاکستان اور یمن میں مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف امریکی ڈرون حملے انتہائی متنازع ہیں۔ بیورو آف انوسٹی گیٹو جرنلزم کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ نے سنہ دو ہزار چار سے اب تک پاکستانی سرزمین پر ساڑھے تین سو کے قریب ڈرون حملے کیے ہیں جن میں سے زیادہ تر اوباما دور حکومت میں ہوئے ہیں۔

"ہم اسے آخری حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں جب خطرے کے خاتمے کے لیے کارروائی کا کوئی اور متبادل باقی نہیں رہتا۔"

جان برینن

واٹر بورڈنگ کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال پر جان برینن نے کہا کہ اسے مستقبل میں کبھی بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے تاہم انہوں نے بارہا سوالات کے باوجود اس بات کا جواب نہیں دیا کہ آیا یہ تشدد ہے کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے ذاتی اعتراضات اور خیالات ایجنسی(سی آئی اے) میں اپنے ساتھیوں کے گوش گزار کیے تھے۔ لیکن میں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ یہ ایسی چیز تھی جو ادارے کے مختلف شعبے میں دیگر افراد کے احکامات کے تحت کی جا رہی تھی۔‘

برینن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب وہ سی آئی اے میں تھے تو انہیں بتایا گیا تھا کہ واٹر بورڈنگ اور تفتیش کے دیگر ایسے طریقوں سے اہم معلومات حاصل کی گئی ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے ارکان کے جان برینن پر تحفظات کے باوجود سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلیجنس کی جانب سے ان کی سی آئی اے کے ممکنہ سربراہ کے طور پر تقرری پر اعتراض سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔

ستاون سالہ جان برینن نوے کی دہائی میں سعودی عرب میں تعینات تھے جبکہ نیویارک پر نائن الیون حملے کے بعد سے وہ سی آئی اے کے سربراہ کی ٹیم میں چیف آف سٹاف کے عہدے پر تعینات رہے۔

سنہ دو ہزار نو میں انہیں براک اوباما کے پہلے دورِ اقتدار میں سی آئي کے سربراہ کے لیے نامزد کیاگيا تھا لیکن اسی دوران بش دور میں قیدیوں پر تشدد کے واقعات سامنے آنے شروع ہوئے جس پر ان کا نام توثیق کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔

"میں نے اپنے ذاتی اعتراضات اور خیالات ایجنسی(سی آئی اے) میں اپنے ساتھیوں کے گوش گزار کیے تھے۔ لیکن میں نے اسے(واٹر بورڈنگ کو) روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ یہ ایسی چیز تھی جو ادارے کے مختلف شعبے میں دیگر افراد کے احکامات کے تحت کی جا رہی تھی۔‘"

جان برینن

جان برینن کی نامزدگی کی سماعت متعدد بار وہاں موجود مظاہرین کے احتجاج کی وجہ سے متاثر بھی ہوئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب سماعت معطل بھی کرنا پڑی۔

موقع پر موجود مظاہرین میں سے ایک شخص نے ایک پلے کارڈ بھی اٹھا رکھا تھا جس پر جان برینن کو ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے القاعدہ کے شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے لیے ڈرون حملوں کے استعمال کو وسیع کیا ہے اور امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی قانون کے مطابق اپنے دفاع میں ایسا کرتا ہے۔

تاہم ڈرون حملوں کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان سے نہ صرف عام شہری بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں بلکہ یہ حملے لوگوں پر مقدمہ چلائے بغیر انہیں مار دینے کے مترادف ہیں۔

حال ہی میں امریکہ کے محکمۂ انصاف کے ایک میمو سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی حکومت کے پاس اپنے شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے ڈرون حملوں کا قانونی جواز ہے۔

این بی سی نیوز کو موصول ہونے والے اس میمو کے مطابق اگر امریکی شہری ’فوری خطرے‘ کی تعریف پر پورے اترتے ہوں تو ان کے خلاف بھر پور طاقت کا استعمال قانونی تصور ہوگا۔

اس دستاویز کے مطابق اگر امریکی شہری القاعدہ یا اسے کے اتحادیوں کے رہنما ہوں تو امریکی حکام بیرونی ممالک میں ان شہریوں کو ڈرون حملوں کے ذریعے ہلاک کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔