فرانسیسی خواتین کو ٹراؤزر پہننے کی اجازت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST

فرانس کی حکومت نے دو سو سالہ قدیم ایک قانون کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت خواتین کے پتلون پہننے پر پابندی تھی۔

فرانس کی وزیر برائے حقوقِ نسواں نجات ولو بلقاسم نے کہا کہ یہ پابندی جدید فرانس کی روایات اور قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سترہ نومبر 1800 کو منظور کیا گیا یہ قانون پہلے ہی دم توڑ چکا ہے کیونکہ اس کی آج کے فرانس کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں ہے۔

اس قانون کے خاتمے کا اقدام گزشتہ سال پارلیمان میں اٹھائےگئے ایک سوال کے بعد اٹھایا گیا۔

اس قانون کے تحت خواتین کو ایک مقامی پولیس افسر کی اجازت درکار ہوتی تھی اگر وہ ’مردوں کی طرح کے کپڑے‘ پہننا چاہتی تھی یا ٹراؤزر

پہننا چاہتی تھی۔

اگرچہ اس قانون کو عرصہ دراز سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے مگر یہ قانون کی کتابوں میں موجود ہے۔

ولو بلقاسم نے کہا کہ اصل قانون کا مقصد خواتین کو بعض مخصوص ملازمتیں کرنے سے روکنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’اس حکم کا مقصد پہلے خواتین کی رسائی بعض مخصوص دفتری ملازمتوں سے روکنا تھا یا انہیں مردوں کے انداز میں کپڑے پہننے سے روکنا تھا۔‘

اس قانون میں ایک ترمیم 1892 میں کی گئی تھی جس کے بعد خواتین کو ٹراؤزر پہننے کی اجازت تھی اگر وہ گھوڑے پر سواری کرنا چاہتی ہوں۔

اس کے بعد ایک بار پھر 1909 میں اس میں مزید ترمیم کی گئی جن میں خواتین کو ٹراؤزر پہننے کی اجازت تھی اگر وہ بائی سائیکل پر سواری کرنا چاہتی ہوں۔

انقلابِ فرانس کے دوران پیرس کی خواتین نے ٹراؤزر پہننے کی اجازت طلب کی تھی اور کام کرنے والی انقلابیوں کو ’ساں کلو‘ کہا جاتا تھا کیونکہ وہ ٹراؤزر پہنتی تھیں بجائے اس کے کہ وہ سلک کی گھٹنوں تک پہنچنے والا پاجامہ پہنتی تھیں جو برژوا خواتین میں مقبول تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔