بی بی سی اردو ٹی وی کا خیرمقدم

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 فروری 2013 ,‭ 16:25 GMT 21:25 PST
بی بی سی اردو ٹی وی

ٹی وی پر سیربین گیارہ فروری سے شروع ہو رہا ہے۔

پاکستان کی سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر بی بی سی اردو اور ایکسپریس نیوز کے اشتراک سے مقبول ترین پروگرام ’سیربین‘ کے سوموار سے ٹی وی پر آغاز کا خیرمقدم کیا ہے۔

بی بی سی کی عالمی، سروس بی بی سی اردو کا پہلا ٹی وی پروگرام ’سیربین‘ گیارہ فروری سے شروع کر رہی ہے جو پاکستان میں ایکسپریس نیوز پر نشر کیا جائے گا۔ یہ ٹی وی پروگرام ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے نشر ہوگا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بی بی سی اردو کو ریکارڈ کروائے گئے ایک خصوصی پیغام میں سیربین کے آغاز کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحافت پنپ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’چالیس سال تک فرنٹ لائن ریاست کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ کئی کمزوریوں سے دوچار ہے۔ بہتر ہے کہ میڈیا ان کمزوریوں کی نشاندہی کرے تاکہ ہم ان کا حل تلاش کرسکیں‘۔

صدر کا کہنا تھا کہ وہ جیل میں بھی بی بی سی ریڈیو سنا کرتے تھے اور ان کی پرانی یادیں اس سے وابستہ ہیں۔ ’مارک ٹلی سے لے کر شفی نقی جامعی تک بی بی سی کے نام کافی معروف ہیں۔ بی بی سی اردو کا ماضی میں بھی مثبت کردار رہا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ بی بی سی مستقبل میں بھی پاکستان کے بدلتے حالات کی بین الاقومی صورتحال کے تناظر میں درست تصویر دکھائے گا۔‘

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اپنے پیغام میں بھی بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین کے ٹی وی پر آغاز پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’بی بی سی اردو عالمی شہرت کا ادارہ ہے۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ خبروں کے ایک نجی ادارے کے اشتراک سے یہ پروگرام شروع ہونے جا رہا ہے۔ اس سے پاکستانی ناظرین یقینا فائدہ اٹھا سکیں گے۔ میں بی بی سی اور نجی ادارے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں‘۔

ملک میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نون) کے سربراہ نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ بی بی سی اس اقدام کے لیے مبارک باد کی مستحق ہے۔ ’ہمارے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ بی بی سی کو سننے والے اب اسے دیکھ بھی سکیں گے‘۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی خان نے بھی اپنے پیغام میں ٹی وی پروگرام کے آغاز پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ایک ذمہ دار چینل کی ضرورت ہے جو حقیقت قوم کے سامنے رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر چینل یہاں فریق بن جاتے ہیں۔ امید ہے بی بی سی غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کرے گا۔ اس کا ملک کی صحافت پر اچھا اثر پڑے گا‘۔

"بی بی سی اردو کا ماضی میں بھی مثبت کردار رہا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ بی بی سی مستقبل میں بھی پاکستان کے بدلتے حالات کی بین الاقومی صورتحال کے تناظر میں درست تصویر دکھائے گا۔"

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری

فاروق ایچ نائیک، وفاقی وزیرِ قانون و انصاف، نے بی بی سی کی انتظامیہ کو پاکستان میں ٹی وی کی نشریات شروع کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’بی بی سی ایک مستحکم، غیر جانبدار اور بااعتماد ادارہ ہے۔ اس کا پاکستان میں شروع ہونا پاکستان کے میڈیا کے لیے بہت اچھا ہوگا اور یہ ایک سنگِ میل ثابت ہوگا جس کے دور رس نتائج ہوں گے‘۔

نائب وزیرِ اعظم چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ بی بی سی کے تبصروں کے ساتھ اور تجزیوں کے ساتھ لوگوں کا ایک بڑا قدرتی لگاؤ ہے لیکن وہ صرف ریڈیو کی حد تک تھا آج مجھے یہ سن کے بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ پہلی دفعہ پاکستان کے اندر اردو سروس ٹیلی ویژن شروع کر رہا ہے۔ اور یہ ایک بڑا خوش آئند اضافہ ہے ٹیلی ویژن سے لوگ تجزیوں اور تبصروں کو دیکھ سکیں گے۔ تو میں سمجھتا ہوں کے اس سے پاکستان کے لوگوں کو ایک نیا ٹیلی ویژن ملے گا جس سے وہ دوسرے چینلز، ان کے تجزیوں اور تبصروں کے ساتھ کمپیئر بھی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں مبارک باد پیش کرتا ہوں بی بی سی کو کہ وہ اردو میں پاکستان میں سروس شروع کررہے ہیں‘۔

وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بی بی سی ایک عالمی نشریاتی ادارہ ہے جو پوری دنیا میں بڑے شوق سے اور بڑے ذوق سے سنا جاتا ہے۔ ہمارے عوام بی بی سی کی اردو سروس پاکستان میں کئی دہائیوں سے سنتے ہیں۔ ’اب مجھے خوشی ہے کہ بی بی سی اردو ٹیلی ویژن پروگرام پاکستان میں شروع ہو رہا ہے۔ اس سے عوام میں اور دلچسپی پیدا ہوگی۔ خواہش پیدا ہوگی کہ وہ بی بی سی کے اردو پروگرام ٹیلی ویژن پر دیکھیں اور دنیا کے بارے میں ، پاکستان کے بارے میں (مصدقہ) جو معلومات ہیں، خبریں ہیں وہ حاصل کریں میں اس موقع پر بی بی سی کی انتظامیہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں‘۔

مولانا فضل الرحمان، سربراہ جمیعتِ علمائے اسلام (ف)، کا کہنا تھا کہ بی بی سی دنیائے صحافت کا قدیم ، تاریخی اور معتبر نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بی بی سی کے پروگرام اور بالخصوص سیربین ہمیشہ سے مقبول پروگرام رہا ہے اور عوام میں اس کی مقبولیت ہمیشہ مسلم رہی ہے۔ ٹی وی پر بھی سیربین کی نشریات کو یقیناَ َ وہی مقبولیت حاصل ہوگی۔ اور غیر جانبدار رویوں کی اسکی جو پہچان ہے وہ اپنی اس پیچان کو برقرار رکھیں گے۔ اس کی مقبولیت میں میرا خیال ہے کہ سابقہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے مزید شہرت اور قبولیت ملے گی۔‘

بی بی سی اردو اس خطے میں انیس سو چالیس سے اپنی نشریات پیش کر رہی ہے اور اب ’سیربین‘ کے ذریعے پاکستان کے ٹی وی ناظرین کو بی بی سی کی بہترین صحافت اور وہ تجزیے اور انٹرویو دیکھنے کا موقع ملے گا جنہیں خبروں کی عالمی صورتِ حال کے تناظر میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں پاکستان میں ثقافتی پروگراموں اور سوشل میڈیا کے رجحانات کے علاوہ کاروبار اور معیشت کا بھی ذکر ہوگا۔

بی بی سی اردو کے ٹی وی کی دنیا میں قدم رکھنے پر سروس کے مدیر عامر احمد خان کا کہنا ہے کہ ’میں آنے والے وقت کے بارے میں بہت پُرجوش ہوں جو کہ ٹی وی جیسے انتہائی تیزی سے بڑھتے ہوئے میڈیا پلیٹ فارم پر اس خطے کی کہانی کی پیشکش جیسے چیلنج سامنے لا رہا ہے۔‘

اس بابت حالاتِ حاضرہ کے لیے ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’برسوں تک پاکستان کے لاکھوں عوام بی بی سی اردو ریڈیو پر سیربین سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ ہم منتظر ہیں کہ نئی نسل اب بی بی سی اردو کے اس نئے پروگرام کو ایکسپریس کے ناظرین کے لیے لازمی بنا دے‘

بی بی سی پاکستان کے ایڈیٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ان کی تمام ٹیم ٹی وی کی دنیا میں قدم رکھنے پر انتہائی خوش ہے۔ ’ایک طویل عرصے تک ٹی وی کے لیے تمام ٹیم کی انتھک کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم ناظرین کی امیدوں پر پورا اتر سکیں گے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔