ایران: حزبِ مخالف کے رہنما کی بیٹیاں گرفتار

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 فروری 2013 ,‭ 22:00 GMT 03:00 PST

دو سال پہلے میر حسین موسوی اور ان کی اہلیہ کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا

ایران میں حزبِ مخالف کے رہنما میر حسین موسوی کے دو بیٹیوں کو سکیورٹی اہلکاروں نے تہران میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا ہے۔

حزبِ مخالف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک ان کے گھر کی تلاشی لی اور اس کے بعد زہرہ اور نرگس کو گرفتار کر لیا۔

اس سے دو سال پہلے میر حسین موسوی اور ان کی اہلیہ کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ میر حسین موسوی کو 2009 میں ملک کے صدارتی انتخابات میں صدر احمد نژاد کے مقابلے میں شکست ہوئی تھی۔

ان صدارتی انتخابات کے متنازع نتائج کی وجہ سے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جسے حکومت کی طرف سے سختی سے دبانے کی کوشش میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

میر حسین موسوی کی جماعت نے دعویٰ کیا تھا کہ 2009 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی جس کے خلاف ان کے حمایتی تہران اور دوسرے شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

حزبِ مخالف کا کہنا ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں کے بعد کے چھ مہینوں میں ان کے آسی کارکنوں کو ہلاک کیا گیا تھا تاہم حکومت اس تعداد کو رد کرتی ہے۔اس میں کئی افراد کو سزائے موت ہوئی تھی جبکہ درجنوں کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

میر حسین موسوی اور ان کی اہلیہ زہرہ راہ نورد کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا جس کا مقصد میر حسین موسوی کے ویب سائٹ کے مطابق ان کوایک مارچ میں شرکت سے روکنا تھا۔

دونوں میاں بیوی باہر کی دنیا کے ساتھ براہِ راست کوئی رابطہ نہیں رک سکتے اور وہ اپنی بیٹیوں کے ذریعے پیغامات بھیجتے تھے جو اصلاح پسند ویب سائٹز پر شائع ہوتے تھے۔

یاد رہے کہ ایران میں جون 2013 میں صدارتی انتخابات منعقد ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔